خطبات محمود (جلد 15) — Page 533
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۵۳۳ کی ضرورت ہے اور گو جیسا کہ حضرت مسیح کہتے ہیں اپنی جوتی کا تسمہ بھی خدا سے مانگ ہمیں اپنی معمولی معمولی ضرورتیں بھی خدا تعالی کے آگے پیش کرنی چاہئیں مگر یہ مستقل مانگنا نہ ہو بلکہ مستقل دعا مومن کی اسی مقصد عظیم کیلئے ہونی چاہیے جس کیلئے اسے پیدا کیا گیا ہے اور جس کو بیان کرتے ہوئے اس نے کہا ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ ال انسانی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا کامل عبد ہو جائے۔پس زیادہ تر دعائیں اسی کیلئے ہونی چاہئیں تاکہ خدا ہمیں اپنا بنالے اور ہم اس کے حقیقی بندے بن جائیں اور جب کوئی خدا کا ہو جائے تو اسے اور کسی چیز کی کیا ضرورت رہ سکتی ہے۔ہم نے تو زمینداروں کو دیکھا ہے وہ ڈپٹی کمشنر سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا سپاہی سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ان پر تصرف انہی معمولی افسروں کا ہے۔پس اصل بات تو وہی ہے کہ۔جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو جب خدا تعالیٰ انسان کا ہو جاتا ہے تو باقی دنیا بھی اس کی ہو جاتی ہے۔پس مومن کا اصل مقصد ہونا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور خدا اس کا۔جب خدا تعالیٰ انسان کا ہو جاتا ہے تو اس کی باقی ضروریات خود بخود پوری ہو جاتی ہیں۔جیسے کہا جاتا ہے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔پس چھوٹی اور معمولی چیزوں کیلئے دعائیں کرنے سے میں منع نہیں کرتا مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ بڑی برکتوں والے ایام کو معمولی اور حقیر دعائیں مانگ کر کوئی نادان ہی ضائع کر سکتا ہے۔میں نے جب حج کیا تو حج کے موقع پر بعض احادیث اور بزرگوں کے اقوال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب پہلی دفعہ خانہ کعبہ نظر آئے تو اس وقت انسان جو دعا کرے وہ قبول وجاتی ہے۔میں جب حج کیلئے روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے یہ بات بتائی اور فرمایا اس کا خیال رکھنا۔جب میں وہاں پہنچا اور میں نے خانہ کعبہ کو دیکھا تو میں نے یہی دعا کی کہ الہی ! میری دعا تو یہ ہے کہ مجھے تو مل جائے اور جب بھی میں تجھ سے دعا کروں تو اسے قبول فرمالیا کر۔مجھے جہاں تک خیال پڑتا ہے، حضرت خلیفہ اول نے بھی ایسی ہی دعا کی تھی۔تو اہم موقعوں کو معمولی دعاؤں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقاصد اپنے دل میں رکھ کر دعائیں کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالی کے خاص فضل ہم پر نازل ہوں۔اور نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری اولادوں پر بھی نازل ہوں۔(الفضل یکم جنوری ۱۹۳۵ء) ؟ الله الذريت: ۵۷