خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 487

خطبات محمود سال ۱۹۳۴۳ تو اسی لئے میں نے ہاتھ سے کام کرنے اور ایک ہی سالن کھانے کی عادت ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔یہ دونوں باتیں مغربیت کے خلاف ہیں۔چھٹی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کیلئے زیادہ جدوجہد کی جائے کیونکہ ہماری فتح اسی سے ہو سکتی ہے اس لئے دعا کرنا میں نے اپنی سکیم کا ایک جزو رکھا ہے۔اس کی غرض یہی ہے کہ ہماری تمام ترقیات اسی سے وابستہ ہیں اور جب ہمارے اندر سے غرور نکل جائے اس وقت اللہ تعالٰی کا فضل نازل ہو سکتا ہے۔اللہ تعالی کو یہی پسند ہے کہ امن کی بنیاد ایسے اصول پر قائم ہو کہ انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہوں۔اس سکیم میں میں نے یہ بات بھی مد نظر رکھی ہے کہ امیر و غریب کا بعد دُور ہو۔مثلاً بعض گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں مہمان زیادہ آتے ہیں وہ چار پانچ کھانے پکاتے ہیں اور جو مہمان بلند پایہ ہوں انہیں میز پر پنے ساتھ بلا کر کھانا کھلا لیتے ہیں اور جو ذرا کم درجہ کے ہوں انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے کمرہ میں تشریف رکھیں، وہیں کھانا آپ کو پہنچ جائے گا مگر جب ایک ہی سالن پکے گا تو اس کی بھی ضرورت نہ ہوگی۔ساتویں بات اس سکیم میں میرے مد نظر یہ ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو تبلیغ کیلئے تیار کیا جائے۔پہلے سارے اس کیلئے تیار نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ ایسے رنگ میں ہوتے ہیں کہ مبلغ نہیں بن سکتے۔اول تو عام طور پر ہماری جماعت میں تبلیغ کا انحصار مبلغوں پر ہی ہوتا ہے وہ آئیں اور تقریریں کر جائیں۔ان کے علاوہ انصار اللہ ہیں مگر وہ ارد گرد جاکر تبلیغ کر آتے ہیں اور وہ بھی ہفتہ میں ایک بار اس سے تبلیغ کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ ہی تبلیغ کرنے کا ہنر آتا ہے۔کسی بات کو سیکھنے کیلئے تسلسل اور تواتر سے کام کرنے کی تی ضرورت ہوتی ہے۔میرے پاس موٹر ہے اور میں نے کئی بار کوشش کی ہے کہ اسے چلانا سیکھی لوں اور جب کبھی سفر پر جاتا ہوں تو اس کی مشق شروع کرتا ہوں مگر واپس آکر چھوڑ دیتا ہوں اور پھر اگر کبھی باہر جانے کا موقع ملا تو اسے شروع کیا اور اس طرح میں چار سال میں بھی موٹر چلانا نہیں سیکھ سکا لیکن اگر چار سال کی جگہ چار دن مسلسل سیکھتا تو سیکھ لیتا۔پس اب میں نے تجویز پیش کی ہے کہ تین ماہ کیلئے جو دوست فراغت حاصل کر سکیں وہ تبلیغ کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس طرح متواتر تین ماہ تک گھر سے دور جاکر تبلیغ کریں۔اپنے گاؤں کے اردگرد ایک تبلیغی وفد بن کر چلا بھی جائے تو اگر کسی مخالف کو غصہ بھی آئے تو وہ یہ خیال