خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 486

خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۴ء چوتھی بات میں نے یہ مد نظر رکھی ہے کہ سلسلہ کی طرف سے پہلے ہم نے ایک دو رستے مقرر کر رکھے تھے اور انہی راہوں سے دشمن پر حملہ کرتے تھے اور باقی کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے تھے کہ ابھی اور کی توفیق نہیں مگر اب سکیم میں میں نے یہ بات مد نظر رکھی ہے کہ حملے وسیع ہوں اور بیسیوں جہات سے دشمن پر حملے کئے جائیں۔ہمارے حملے ایک ہی محاذ پر محدود نہ ہوں بلکہ جس طرح دفاع کیلئے ہم مختلف طریق اختیار کریں، اسی طرح حملہ کیلئے بھی مختلف مجاز ہوں۔پانچویں بات یہ ہے کہ مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثر کو جو دنیا کو کھائے جاتا ہے اور جو دجال کے غلبہ میں محمد ہے اسے دور کیا جائے۔اس سلسلہ میں میں نے عورتوں کی کے سلسلہ میں کچھ عرصہ ہوا ایک لیکچر دیا تھا اگرچہ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے کارکنوں نے سے فائدہ نہیں اٹھایا اور سکول میں لڑکیوں کی تعلیم کو اس طرز پر نہیں بدلا جو میں نے بتائی تھی۔مگر میں نے اپنے گھر میں اسے رائج کر دیا ہے اور اپنی لڑکیوں کو سکول سے ہٹا کر ایسے رنگ میں انہیں گھر پر تعلیم دلانی شروع کردی ہے کہ تا ایک طرف انگریزی بولنی اور لکھنی آجائے دوسری طرف دینی تعلیم اور اردو زبان کی تعلیم زیادہ ہو۔سکولوں میں گو انگریزی اور اس کے لوازمات پر زور دیا جاتا ہے مگر پھر بھی طالبات کو انگریزی بولنی نہیں آتی حالانکہ کسی زبان کے سیکھنے میں اصول یہ ہونا چاہیے کہ طالب علم اس میں گفتگو کر سکے مگر سکولوں کی غرض حاصل نہیں ہوتی۔اُستانیوں کو بھی بولنی نہیں آتی تو لڑکیاں کس طرح سیکھیں گی بلکہ میں نے دیکھا ہے لڑکوں کو بھی انگریزی بولنی نہیں آتی۔مگر میں نے اپنے گھر میں اس طرز پر تعلیم شروع کرائی ہے کہ انگریزی بولنے کی مشق ہو اور باقی تعلیم دینی ہو۔گو بچوں کی تعلیم پر مجھے ایک بہت بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے کیونکہ کئی اُستاد اور اُستانیاں رکھنی پڑتی ہیں اور بوجھ ناقابل برداشت ہوتا ہے مگر مقصود روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے اور جب تک ہمارے زنانہ سکول کی حالت نہ بدلے، ایسا کرنا پڑے گا۔اس وقت میں نے اس امر کو پھر دہرادیا ہے تالوگوں کو معلوم رہے کہ لڑکیوں کی موجودہ تعلیم کا میں سخت مخالف ہوں، ما دوسرے مخلصین اگر صحیح طرز ابھی اختیار نہ کر سکیں تو بھی ان کے دل میں یہ خلش ضرور ہو کہ ہم نے اسے بدلنا ہے۔غرض مغربیت کے اثر کو زائل کرنا بھی اس سکیم میں میرے مد نظر ہے اور جوں جوں وہ زائل ہوتا جائے گا اسلام کی محبت اور اس کا دخل بڑھتا جائے گا