خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 433

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء واسطے تین سال کیلئے پندرہ ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔فی الحال پانچ ہزار روپیہ کام کے شروع کرنے کیلئے ضروری ہے بعد میں دس ہزار کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر اس سے زائد جمع ہو گیا تو اسے اگلی مدات میں منتقل کر دیا جائے گا۔اس کمیٹی کا مرکز لاہور میں ہوگا اور اس کے ممبر مندرجہ ذیل ہوں گے۔(۱) پیر اکبر علی صاحب (۲) شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور (۳) چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر لاہور (۴) ملک عبدالرحمن صاحب قصوری (۵) ڈاکٹر عبدالحق صاحب بھائی گیٹ لاہور (۶) ملک خدا بخش صاحب لاہور (۷) چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری (۸) شیخ جان محمد صاحب سیالکوٹ (۹) مرزا عبد الحق صاحب وکیل گورداسپور (۱۰) قاضی عبدالحمید صاحب وکیل امرتسر (۱) سید ولی اللہ شاہ صاحب (۱۲) شمس صاحب له یا اگر وہ باہر جائیں تو مولوی الله و تا صاحب (۱۳) شیخ عبد الرزاق صاحب بیرسٹر لائل پور (۱۴) مولوی غلام حسین صاحب جھنگ (۱۵) صوفی عبدالغفور صاحب حال لاہور۔اس کام کیلئے اللہ تعالی جن دوستوں کو توفیق اور اخلاص دے سو سو یا دو دو سو یا زیادہ مقدار میں یکمشت چندہ دیں۔ہاں غرباء کو ثواب میں شامل کرنے کیلئے میں ان کیلئے اجازت دیتا ہوں کہ اس تحریک کیلئے وہ دس دس یا ہمیں نہیں کی رقوم بھی دے سکتے ہیں یا دس دس ماہوار کرکے دے سکتے ہیں یہ کام تین سال تک غالبا جاری رہے گا۔اس کمیٹی کے اجلاس میں ہی میں اس کے کام کے طریقے بتلاؤں گا۔میں خود اس کا ممبر نہیں ہوں مگر مجھے حق ہوگا کہ جب چاہوں اس کا اجلاس بلاؤں اور ہدایات دوں۔اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ میری دی ہوئی ہدایات کے مطابق دشمن کے پروپیگنڈا کا بالمقابل پروپیگنڈا سے مقابلہ کرے۔مگر اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ تجارتی اصول پر کام کرے مفت اشاعت کی قسم کا کام اس کے دائرہ عمل سے خارج ہو گا۔جماعت سے قربانی کا چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے۔قادیان بے شک ہمارا مذہبی مرکز ہے مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں