خطبات محمود (جلد 15) — Page 432
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے برابر جائداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ احتیاط اور کفایت کے ساتھ دوست خرچ کریں گے اور بچت کر سکیں گے بعد میں وہ تمام کی تمام رقم انہیں واپس مل جائے گی۔مگر اس رقم میں آنے شامل نہیں ہوں گے۔مثلاً جس شخص کے ذمہ پچاس روپیہ آٹھ آنہ بنتے ہیں وہ یا پچاس روپیہ دے یا اکاون- طالب علم بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے خرچ میں سے ایک روپیہ بچا کر بھی جمع کراسکتے ہیں یہ ضروری شرط ہے کہ آنے اس میں نہیں لئے جائیں گے۔پس ایسی صورت میں کہ اس تجویز میں طالب علم ، عورتیں، مرد سب شامل ہو سکتے ہیں۔آسانی کے ساتھ اس میں دو ہزار آدمی حصہ لے سکتے ہیں۔اور اوسط آمد ایک آدمی کی اگر پانچ رو بیه ماہوار بھی رکھ لی جائے تو ہر ماہ میں دس ہزار کی امانت داخل ہو سکتی ہے۔جو تین سال میں چار لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔تین سال کے بعد یہ روپیہ تین سال کے بعد یہ روپیہ نقد یا اتنی ہی جائداد کی صورت میں واپس کردیا جائے گا۔جو کمیٹی میں اس رقم کی حفاظت کیلئے مقرر کروں گا اس کا فرض ہو گا کہ ہر شخص پر ثابت کرے کہ اگر کسی کو جائداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جارہا ہے تو وہ جائداد فی الواقع اس رقم میں خریدی گئی ہے۔اس سب کمیٹی کے ممبر علاوہ میرے مندرجہ ذیل احباب ہوں گے۔(۱) مرزا بشیر احمد صاحب (۲) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب (۳) عبدالرحمن صاحب مصری (۴) مرزا محمد اشرف صاحب (۵) مرزا شریف احمد صاحب (۶) ملک محمد صاحب لاہور (۷) چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری (۸) چوہدری حاکم علی صاحب سرگودہا اور چوہدری فتح محمد صاحب۔اس کمیٹی کا کام میں اسی کو بتاؤں گا باقی میں اس کی غرض نہیں بتا سکتا۔بہرحال یہ قربانی مالی لحاظ سے بھی ، ثواب کے لحاظ سے بھی اور جماعت کی ترقی کے لحاظ سے بھی مفید ہوگی۔إِنْشَاءَ اللهُ غلام جماعت سے قربانی کا تیسرا مطالبہ میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کیلئے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے خلاف شائع کر رہا ہے اس کا جواب دیا جائے۔یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی جارہی ہیں انہیں دور کیا جائے اس کیلئے بھی خاص نظام کی ضرورت ہے۔روپیہ کی ضرورت ہے، آدمیوں کی ضرورت ہے اور کام کرنے کے طریقوں کی ضرورت ہے۔طریق میں بیان نہیں کرتا یہ میں اس کمیٹی کے سامنے ظاہر کروں گا جو اس غرض کیلئے بنائی جائے گی اس کام کے