خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 434

خطبات محمود سلام س مهم سال ۱۹۳۴ء ہے۔یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا، جاوا روس، امریکہ، غرضیکہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے اس لئے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں، کچکتا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ کون سی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت قبول کرلیں گے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ جماعت کو ایسی طاقت کہاں سے حاصل ہو جائے گی کہ اس کے بعد دشمن شرارت نہ کر سکے گا۔مجھے شروع خلافت سے یہ خیال تھا اور اسی خیال کے ماتحت میں نے باہر مشن قائم کئے تھے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بیرونی مشنوں پر روپیہ خرچ کرنا بیوقوفی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ یہ خیال صرف اسی وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ ایسے لوگوں نے سلسلہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اسے ایک انجمن خیال کرلیا ہے۔مذہبی سلسلے ضرور ایک وقت دنیا کے توپ خانوں کی زد میں آتے ہیں اور وہ کبھی ظلم و ستم کی تلوار کے سایہ کے بغیر ترقی ہی نہیں کر سکتے۔پس ان کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں ان کی شاخیں ہوں تاکہ ایک جگہ وہ ظلم و ستم کا تختہ مشق ہوں تو دوسری جگہ پر ان کی امن کے ساتھ ترقی ہو رہی ہو اور تاکہ ان کا مذہبی لٹریچر دشمن کی دست برد سے محفوظ رہے۔جو شخص بھی اس سلسلہ کو ایک آسمانی تحریک سمجھتا ہے اسے اس امر کیلئے تیار ہونا پڑے گا اور جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ حقیقت میں اس سلسلہ کو بالکل نہیں سمجھتا۔غرض سلسلہ احمدیہ کسی جگہ بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا اس لئے جب تک ہم سارے ممالک میں اپنے لئے جگہ تلاش نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہماری مثال فقیر کی طرح ہے جو سب دروازے کھٹکھٹاتا فرض ہے کہ دنیا میں نئے نئے رستے تلاش کریں اور نئے نئے ممالک میں جاکر تبلیغ کریں۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ کہاں لوگ جوق در جوق داخل ہوں گے۔چونکہ ہمارا پہلا تجربہ بتاتا ہے کہ با قاعده مشن کھولنا مہنگی چیز ہے اس لئے پرانے اصول پر نئے مشن نہیں کھولے جاسکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں۔ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان۔سب سے پہلے تو ایسے لوگ تلاش کئے جائیں کہ جو سب یا کچھ حصہ خرچ کا دے کر حسب ہدایت جاکر کام کریں مثلاً صرف کرایہ لے لیں آگے خرچ نہ مانگیں یا کرایہ خود ادا کر دیں خرچ چھ سات ماہ کیلئے ہم سے لے لیں یا کسی قدر - ہے۔ہمارا