خطبات محمود (جلد 15) — Page 431
خطبات محمود ۳۱ سال ۱۹۳۴ء اپنے آپ کو ہی پیش کر سکتا ہے اور اپنے کھانے اور پہننے میں کمی کر سکتا ہے۔اسی طرح جس عورت کا خاوند تیار نہ ہو وہ اگر چاہے تو اپنا نام پیش کر سکتی ہے بچے بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور اگرچہ وہ اور کسی چیز میں نہیں مگر اپنے جیب خرچ میں کمی کر سکتے ہیں وہ اگر دو آنے ماہوار بھی بچائیں تو قومی مال میں زیادتی کر سکتے ہیں۔پس یہ مطالبات ہیں جو میں ان دوستوں سے کرتا ہوں جو اس کے اہل ہیں جو اس کے ماتحت آتے ہی نہیں ان سے کوئی مطالبہ نہیں۔پس جو افراد یا جماعتیں اس میں شامل ہونا چاہیں، ان کیلئے میں آئندہ ایک ماہ کی مدت مقرر کرتا ہوں۔ہندوستان کے رہنے والے ایک ماہ تک اپنے نام پیش کریں۔اور دوسرے ممالک میں رہنے والے چار ماہ کے اندر اندر جس وقت سے وہ یہ عہد کریں گے اسی وقت سے سال شروع ہو گا۔جماعت سے قربانی کا دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے۔میں یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۱/۵ سے ۱/۳ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں یا دار الانوار کمیٹی کا حصہ یا صے انہوں نے لئے ہیں (اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ) وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرا دیں۔مثلاً ایک شخص کی پانچ سو روپے آمد ہے اور وہ موصی بھی ہے۔اور دارالانوار کا ایک حصہ بھی اس نے لیا ہوا ہے وہ دس بارہ روپے ماہوار اور ثواب کے کاموں میں بھی خرچ کرتا ہے۔اس شخص نے ۱/۵ دینے کا عہد کرلیا اور یہ سو روپے کی رقم ہوئی۔وصیت ایسے شخص کی پچاس ہوئی دار الانوار کمیٹی کے ۲۵ ہوئے۔چندہ کشمیر اور دوسرے کار ہائے ثواب مثلاً بارہ روپے ہوئے یہ کل رقم ۸۷ ہوئی۔باقی تیرہ روپے ماہوار اس شخص کو انجمن میں اس تحریک کی امانت میں جمع کراتے رہنا چاہیئے۔اور اگر ۱/۴ کا عہد کیا تو ۱۳ + ۲۵ اڑ میں روپیہ جمع کراتے رہنا چاہیے۔عہد کرنے والے شخصوں کو تین سال تک متواتر ایسا کرنا ہو گا۔اس مطالبہ کے ماتحت جو آنا چاہے اسے چاہیے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے۔اور یہ بھی اطلاع دے کہ کس قدر حصہ کا عہد ہے اور چندے وغیرہ نکال کر کس قدر رقم اوسطاً اس کی امانت میں جمع کرانے والی پہنچے گی جسے وہ با قاعدہ جمع کراتا رہے گا۔مقررہ تین سال کے بعد