خطبات محمود (جلد 15) — Page 430
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء پس میں اس عام نصیحت کے ساتھ کہ جو لوگ اس معاہدے میں شامل ہوں وہ آرائش و زیبائش پر خواہ مخواہ روپیہ ضائع نہ کریں، اس بات کو چھوڑتا ہوں۔بعض عورتیں پرانے کپڑوں سے بڑی بڑی اچھی زیبائش کی چیزیں تیار کرلیتی ہیں انہیں اجازت ہے کیونکہ اس میں روپیہ کا ضیاع نہیں بلکہ دستکاری کی ترقی ہوتی ہے۔ہاں نئی چیزیں خریدنے پر پیسے خرچ نہ کئے جائیں۔آٹھویں چیز تعلیمی اخراجات ہیں۔اس کے متعلق کھانے پینے میں جو خرچ ہوتا ہے، اس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔جو خرچ اس کے علاوہ ہیں یعنی فیس یا آلات اور اوزاروں یا سٹیشنری اور کتابوں وغیرہ پر جو خرچ ہوتا ہے، اس میں کمی کرنا ہمارے لئے مضر ہو گا اس لئے نہ تو اس میں کمی کی نصیحت کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔پس عام اقتصادی حالات میں تغیر کیلئے میں ان آٹھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔جو لوگ ان قربانیوں کو کرنا چاہیں وہ مجھے لکھ کر اس کی اطلاع دیں، جو جماعتیں ایسا کرنا چاہیں وہ ریزولیویشن پاس کر کے مجھے بھیج دیں یا اگر کوئی ایسے لوگ ہوں جن کے سوائے ساری جماعت ان قربانیوں کیلئے آمادہ ہو تو صرف ان کے نام لکھ کر بھیجے جا سکتے ہیں۔یہ تین سال کا عہد ہو گا جسے ہر سال کے بعد دو ہرایا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو کسی بات کو درمیان میں بھی چھوڑا جاسکے گا۔جہاں یہ گی۔باتیں دوسرے گھروں کیلئے اختیاری ہیں وہاں ہمارے اپنے گھروں میں لازمی ہوں قرآن کریم میں حکم ہے۔يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَ زِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعَكُنَّ وَ أُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلاً - ها پس اس حکم کے ماتحت ایک نبی کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے میں بھی اپنے بیوی بچوں کیلئے ان باتوں کو لازمی قرار دیتا ہوں۔وہ بچے جو میرے قبضے میں ہیں ان پر ان باتوں کی پابندی لازمی ہے۔ہاں جو علیحدہ ہو چکے ہیں اور شادی شدہ ہیں وہ خود ذمہ دار ہیں وہ اپنے طور پر قربانی کریں۔باقی جماعت میں سے جو چاہیں کریں اور جو نہ چاہیں نہ کریں۔خدا تعالیٰ کے سامنے براہ راست جواب دہ میں ہی ہوں دوسرے لوگ میرے تابع ہیں۔جو ان باتوں میں میری متابعت کرنا چاہیں وہ کریں اور جو نہ کرنا چاہیں نہ کریں لیکن اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ جب تک عورتیں تعاون نہ کریں، اخراجات کم نہیں ہو سکتے اور کوئی ایسی رقم نہیں بچ سکتی جو سلسلہ کے کام آسکے اور جب تک یہ کام نہ ہو اس وقت تک یہ کہنا کہ ہمارے مال سلسلہ کیلئے حاضر ہیں غلط ہے۔پہلے مال بچاؤ پھر ان کو حاضر کرو۔جس شخص کی بیوی بچے اس قربانی کیلئے تیار نہ ہوں وہ