خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۴ء میں اور ہم میں اختلاف ڈلوا کر دونوں کو الگ الگ نقصان پہنچائیں۔گورنمنٹ کی بنیاد چونکہ مذہب پر نہیں اس لئے ممکن ہے وہ ان کے قابو میں آجائے مگر ہم انشاء اللہ ان کے قابو میں نہیں آسکتے۔علاوہ سیاسی مخالفت کے موجودہ فتنہ کے تحت میں مذہبی مخالفت بھی کام کر رہی ہے۔علماء میدان دلائل میں شکست کھاچکے ہیں، وفات مسیح کے مسئلہ کو پیش کیا جائے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں، اسلام کا اس سے کیا تعلق کہ مسیح ناصری زندہ ہیں یا مرچکے حالانکہ اگر اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو یہ لوگ اسی وجہ سے ہم پر کفر کے فتوے کیوں لگاتے رہے ہیں۔اسی طرح نبوت کا مسئلہ ہے سوائے شور مچانے کے اور کوئی بات نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پہلے بزرگ خود لکھ چکے ہیں کہ امت محمدیہ میں غیر تشریعی نبوت کا سلسلہ جاری ہے اب وہ رو کس طرح کریں گالیاں دیں تو اپنے بزرگوں پر بھی پڑتی ہیں۔غرض میدان دلائل میں علماء ہمارے سامنے مات کھاچکے ہیں اور اب تو میں نے کثرت سے تعلیم یافتہ لوگوں کے مونہوں سے سنا ہے کہ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے صرف یہ بتائیے کہ حضرت مرزا صاحب کس طرح نبی بن گئے۔سمجھدار اور دیانت دار نو مسلم تو اس بات کو کبھی برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ نبوت کا دروازہ بند مانا جائے۔میں جب ولایت گیا تو ایک نہایت ہی مخلص احمدی نومسلم مسٹر شیلے جو بہت بوڑھے تھے اور اب فوت ہوچکے ہیں، مجھ سے ملنے کیلئے آئے وہ مزدوری کیا کرتے تھے اور ان کی عادت تھی کہ جب بھی مسجد میں آتے چونکہ چائے وغیرہ پلائی جاتی تھی اس لئے چھ آنے یا نو آنے کے قریب ہمیشہ چندہ دے جاتے تا یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ مفت میں چائے پی رہے ہیں۔نہایت ہی مخلص اور اسلام سے محبت رکھنے والے تھے۔مجھ سے جب ملنے کیلئے آئے تو باتیں کرتے وقت محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر مجھ سے کہنے لگے۔آپ مجھے یہ بتائیں کیا مرزا صاحب نبی تھے۔میں نے کہا ہاں نبی تھے۔اس پر ان کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور کہنے لگے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگے آپ مجھے بتائیں کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مسلمانوں کیلئے نبوت کا دروازہ کھلا ہے، گو یہ علیحدہ ہے کہ اللہ تعالی کی نظر انتخاب کسی خاص شخص پر پڑے اور دوسروں پر نہ پڑے۔میں نے کہا یقیناً خدا تعالیٰ نے امت محمدیہ کیلئے باب نبوت کو کھلا رکھا ہے اس پر ان کا چہرہ پھر دمک اٹھا اور کہنے لگے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔پھر باوجود اس کے کہ انہیں معلوم تھا کہ میں۔