خطبات محمود (جلد 15) — Page 398
خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۹۳۴ تو جماعت احمدیہ کا خلیفہ اور حضرت مسیح موعود کا بیٹا ہوں، مجھے کہنے لگے آپ نے حضرت مرزا صاحب کو دیکھا ہے۔میں نے کہا ہاں دیکھا ہے۔اس پر پھر ان کا چہرہ روشن ہو گیا اور کہنے لگے مجھے بڑی خوشی ہوئی، آپ اپنا ہاتھ پکڑائیے۔پھر انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور یہ کہتے ہوئے کیا کہ آج میں نے ایک نبی کے دیکھنے والے سے مصافحہ کیا ہے۔غرض سمجھدار اور بے غرض یورپین تو مسلم یہ عقیدہ کبھی برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ کوئی ایسا نبی آئے جو تمام ترقیات کے دروازے بنی نوع انسان کیلئے بند کردے۔ان میں سے ہر معقول پسند انسان کہے گا کہ محمد کو جو چاہو بڑے سے بڑا درجہ دے لو مگر وہ رستہ نہ کھولو جس کے نتیجہ میں دنیا کی۔ترقیات رُک جائیں۔علماء کے سامنے جب یہ باتیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے پھر لوگ انہیں کہتے رہتے ہیں تم کرتے کیا ہو۔احمدیوں میں سے تو کوئی افریقہ جاکر لوگوں کو مسلمان بنا رہا ہے اور کوئی امریکہ ، کوئی انگلستان جارہا ہے اور کوئی ماریشس اور دمشق وغیرہ مگر تم بجز اس کے کہ گھر بیٹھے روٹیاں توڑتے رہتے ہو اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگاتے ہو اور کیا کرتے ہو۔یہ باتیں جب ان کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔پس ہمارے وجود سے مولویوں کی زندگی تلخ ہوگئی ہے اور وہ دل میں کہتے ہیں کہ ہم تو احمدیوں کو چھوڑ دیں یہ ہمیں نہیں چھوڑتے ہم کیا کریں۔جیسے کسی نے کہا تھا میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں پر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔غرض علماء پر ایک عجیب مصیبت نازل ہے۔ہم ان سے لڑیں یا نہ لڑیں لوگ جب سنتے کہ فلاں ملک میں احمدیوں کے ذریعہ اتنے مسلمان ہو گئے، افریقہ میں اتنے اور امریکہ میں اتنے لوگ داخل اسلام ہوئے تو وہ مولویوں سے پوچھتے ہیں کہ تم سوائے کافر بنانے کے اور کیا کرتے ہو۔مولوی جب یہ باتیں سنتے ہیں تو بجز اس کے انہیں کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ کہتے ہیں ہم لٹھ تیار کرلیں کہیں احمدی نظر آیا تو اس کا سر پھوڑ دیں گے پھر نہ یہ کمبخت دنیا میں رہیں گے اور نہ لوگ ہمیں ستایا کریں گے۔ہر مولوی چونکہ اپنے ساتھ چیلے بھی رکھتا ہے اور ان چیلوں کا آگے حلقہ احباب ہوتا ہے اس طرح یہ مخالفت پھیل جاتی ہے۔دوسری طرف آریوں نے بھی محسوس کرلیا ہے کہ ہماری جماعت کی وجہ سے ان کی ترقی رک رہی ہے۔جب ملکانا میں ارتداد شروع ہوا اور تھوڑے ہی عرصہ میں یعنی قریباً دو مہینہ کے اندر اندر انہوں نے ہیں ہزار آدمی مسلمانوں میں سے مرتد کرلئے تو اس وقت لاہور میں ڈھنڈورا پیٹا گیا ہیں۔