خطبات محمود (جلد 15) — Page 396
خطبات محمود سیال ۱۹۳۴ء طرح پولیس میں ایسے افسر تھے جو کانگرسیوں کی گرفتاری کی خبر وارنٹ پہنچنے سے قبل انہیں پہنچادیتے۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب پولیس کے سپاہی وارنٹ لیکر پہنچتے تو کانگری ایسے شخص کو ہار پہنا کر پہلے سے پولیس کے منتظر ہوتے تھے۔اس قسم کے لوگ سیاسی اختلاف کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ اور جماعت احمدیہ میں لڑائی ہو جائے اور وہ حکومت میں ہو کر حکومت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ان لوگوں نے وہی چال چلی ہے جو کہتے ہیں ایک باغ والے نے تین شخصوں کے خلاف چلی تھی جو اس کے باغ کا میوہ کھاگئے تھے۔کہتے ہیں کہ کسی باغ میں سید مولوی اور زمیندار تینوں اکٹھے چلے گئے اور اس کے میوے توڑ توڑ کر کھانے لگے۔باغ کا مالک جب آیا تو اس نے دیکھا کہ تین آدمی ہیں اور وہ اکیلا ہے۔اس نے سوچا کہ اس طرح مقابلہ تو مشکل ہے۔پھر کچھ سوچ کر وہ سید اور مولوی کو الگ لے گیا اور سید سے کہنے لگا کہ آپ تو آل رسول ہیں یہ سب باغ آپ کے نانا کا مال ہے جہاں سے جی چاہے کھائیں اور مولوی سے کہا کہ آپ بھی رسول کریم اللہ کے گدی نشین ہیں۔آپ کے فعل پر بھی اعتراض نہیں کیا جاسکتا مگر اس زمیندار کا کیا حق تھا کہ میرے باغ میں آتا اور میوے توڑ توڑ کر کھاتا۔چونکہ ان دونوں کی تعریف ہو گئی تھی وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے۔مالک کہنے لگا تو پھر انصاف قائم کرنے میں آپ میری مدد کریں چنانچہ تینوں نے مل کر زمیندار کو پکڑا اور اسے خوب مارا۔پھر اسے ایک درخت سے باندھ دیا۔اس کے بعد مالک سید کو الگ لے جاکر کہنے لگا یہ مولوی بھی کچھ کم مجرم نہیں کیونکہ یہ مسئلے کرنے والا نوکر ہے۔آلِ رسول کا ہی حق ہے کہ میوے کھائے، خادموں کا بھلا کیا اختیار ہے کہ وہ آلِ رسول کے ہم رتبہ بنیں۔سید کیلئے اس سے زیادہ فخر کی بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ اسے مولوی پر ترجیح دے دی گئی۔اس نے کہا بات تو تم نے ٹھیک کہی۔مالک کہنے لگا تو پھر انصاف قائم کرنے میں میری مدد کرو۔چنانچہ مولوی کو بھی دونوں نے مل کر خوب مارا اور ایک درخت سے باندھ دیا گیا۔اب صرف اکیلا سید رہ تھا۔مالک نے جھٹ اس کی گردن پکڑ لی اور کہا خبیث دوسروں کا مال کھانے والا بھی کبھی آل رسول ہوا کرتا ہے۔چنانچہ اسے بھی خوب مارا اور درخت سے باندھ دیا۔ہم نے رہ گیا یمی دوسرے کا مال تو نہیں کھایا بلکہ ہر ایک کو اس کا حق ولاتے ہیں لیکن بہر حال لوگ ہم سے بد گمانی رکھتے ہیں کہ گویا ہم انگریزوں سے مل کر ان کے حقوق کا نقصان کر رہے ہیں اور اس غصہ میں وہ ہمارے خلاف چالیں چلتے ہیں۔اور اب انہوں نے یہ تدبیر سوچی ہے کہ گورنمنٹ