خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 364

خطبات محمود ۳۶ سال ۶۱۹۳۴ نے خیال کیا کہ گویا خدا تعالیٰ ہم سے غداری کرے گا اور دشمن کا حملہ کامیاب ہوگا۔جھوٹ ہے ہمارا خدا وفادار خدا ہے اس کے خلاف سب الزام جھوٹے ہیں۔اب خطبہ کو درست کرتے ہوئے میں دو اور بشارتوں کو درج کر دیتا ہوں۔ایک تو کشف ہے اور ایک خواب میں جمعہ کے بعد رات کو بستر پر لیٹا ہوا تھا اور غالباً نصف شب کے بعد کا وقت تھا کمزوری اور کمر درد کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی اور میں جاگ رہا تھا کہ جاگتے ہوئے میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ میری کوئی بیوی والدہ ناصر احمد یا والدہ طاہر احمد - غالبا والدہ ناصر احمد ہیں نے آکر دستک دی ہے۔انہوں نے دریافت حال کیا تو اس شخص نے ایک چیز انہیں دی کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے بھیجوائی ہے۔انہوں نے لا کر مجھے دی کہ غلام نبی صاحب گلکار (جو کشمیر کی جماعت کے پریذیڈنٹ ہیں) یہ قدرتی برف لائے ہیں کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے دی ہے۔وہ برف ایک سفید تولئے میں لپٹی ہوئی ہے اور دوسیر کے قریب ہے اور اس کی شکل ایک بڑی اینٹیڈ کے مشابہ ہے۔میں کشف کی حالت میں اس برف کو پکڑتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ اتنی دور سے اتنی برف کس طرح محفوظ پہنچ گئی۔تولیہ بھی بالکل خشک ہے اور اس میں برف پگھلنے کی وجہ سے نمی تک نہیں آئی۔اس کے بعد یکدم حالت بدل گئی۔میں سمجھتا ہوں اس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ ہمارے قلوب کو اللہ تعالیٰ کسی اپنے پیارے بندے کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے ٹھنڈک پہنچائے گا۔ولی اللہ کا بھیجنا غلام نبی کا لانا رشیدہ بیگم جو میری بڑی بیوی کا نام ہے) کا پکڑنا اور محمود کے ہاتھ میں دینا ایک عجیب پر معنی سلسلہ ہے جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔قدرتی برف سے یہ مراد ہے کہ یہ سامان تسکین کے غیب سے پیدا ہوں گے اور اس کا نہ پگھلنا بتاتا ہے کہ تسکین مستقل ہوگی اور عارضی نہ ہوگی۔اسی طرح آج میں نے دیکھا کہ ایک دعوت کا سامان ہو رہا ہے اور اس کے لئے برتن صاف کر کے میری ایک بیوی ترتیب سے رکھوا رہی ہیں۔ان برتنوں میں میں نے نہایت نفیس اور خوبصورت رنگوں والا شیشہ کا سامان دیکھا، کچھ پیالے ہیں، کچھ صراحیاں اور کچھ گلاس نہایت ہی اعلیٰ قسم کے ہیں ایسے کہ ان کی طرح کا اور ان کی قیمت کا کوئی سامان ہمارے ہاں موجود نہیں۔میں اس وقت وضو کر کے غالبا نماز کے لئے کمرہ میں داخل ہو رہا ہوں۔انہیں دیکھ کر ان کی خوشنمائی کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ فلاں قسم کے۔