خطبات محمود (جلد 15) — Page 365
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ان میرا رنگوں کے برتن جو ہمارے ہاں پہلے سے موجود تھے ان کو بھی بیچ میں رکھ دو تو یہ رنگ زیادہ خوبصورت ہو جائیں گے۔یہ رویاء بھی خوشی اور کامیابی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْاِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الا بتَر۔اور بہت سے لوگوں کو بھی مبشر رویا ہو رہی ہیں۔بہر حال ترقیات اور کامیابیوں کی بشارتیں ہمیں ملی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ حاصل ہو کر رہیں گی لیکن ان کے حصول کے لئے سنت اللہ ہمیں قربانیوں کی ضرورت ہے اور حسب احکام شریعت کچھ تدابیر اختیار کرنے کی بھی۔لیکن میں نے پورے غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ قربانیاں بالعموم جبری اور لازمی نہ ہوں بلکہ اختیاری ہوں تاکہ ہر شخص اپنے حالات اور اخلاص کے مطابق کام کر سکے۔ارادہ ہے کہ اس سکیم کو پیش کرتے ہوئے میں اپنی جماعت سے والنٹیٹرز طلب کروں گا اور ن لوگوں کو بلاؤں گا جو خوشی سے اس تحریک میں شامل ہوں۔اس میں شبہ نہیں کہ اس کے نتیجہ میں ممکن ہے بعض لوگ جو کام کے قابل ہوں، شامل نہ ہوں۔مگر جو شخص اپنے اندر کام کی طاقت رکھتے ہوئے شامل نہیں ہو گا وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا اور اس کا یہ عذر ہرگز سنا نہیں جائے گا کہ اس تحریک میں شامل ہونا اپنی مرضی پر موقوف رکھا گیا تھا کیونکہ گو اس میں شامل ہونا اختیاری ہو گا مگر جو شخص شامل ہونے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس خیال کے ماتحت شامل نہیں ہوگا کہ خلیفہ نے شمولیت کو اختیاری قرار دیا ہے، وہ مرنے سے پہلے اس دنیا میں یا مرنے کے بعد اگلے جہان میں پکڑا جائے گا۔ہاں جو شخص نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ اس کے حالات مساعدت نہیں کرتے وہ اس سے مستقلی سمجھا جائے گا۔مگر ایک بات میں آج ہی کہہ دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کثرت سے مجھے تاریں اور خطوط موصول ہوئے ہیں جو جماعتوں کی طرف سے بھی ہیں اور افرادِ جماعت کی طرف سے بھی جن میں دوستوں نے اپنے آپ کو خدمت سلسلہ کے لئے پیش کیا ہے اور اپنے مال اور اپنی جان دینے کا اقرار کیا ہے اور بعض نے تو ایسی لطیف سکیمیں بطور مشورہ اپنے خطوط میں بیان کی ہیں کہ گویا میری سیکیم کے بعض ٹکڑے انہوں نے بیان کر دیئے ہیں۔بہر حال جماعت کے ہزارہا آدمی ہیں جنہوں نے پنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ وہ بغیر کسی عذر کے بغیر ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نکالنے کے، اس بات پر تیار ہیں کہ ان سے سلسلہ کا جو کام بھی لیا جائے لے لیا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو اپنے اندر ایمان کا ایک ذرہ بھی