خطبات محمود (جلد 15) — Page 363
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کو میں انشاء اللہ آئندہ جمعہ سے بیان کرنا شروع کروں گا۔میں نے ایک دن خاص طور پر دعا کی تو میں نے دیکھا کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب آئے ہیں وہ اس وقت تک انگلستان سے واپس نہیں آئے تھے) اور میں قادیان سے باہر پرانی سڑک پر ان سے ملا ہوں وہ ملتے ہی پہلے مجھ سے بغلگیر ہو گئے ہیں اس کے بعد نہایت جوش سے انہوں نے میرے کندھوں اور سینہ کے اوپر کے حصہ پر بوسے دینے شروع کئے ہیں اور نہایت رقت کی حالت ان پر طاری ہے۔اور وہ بو سے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میرے آقا میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں۔کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے یا کہا کہ خاص میری ذاتی قربانی چاہی ہے اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر اخلاص اور رنج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ اول تو اس میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جس قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا خواہ کوئی ہی حالات ہوں وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔دوسرے یہ کہ ظفر اللہ خاں سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فتح ہے اور ذات سے قربانی کی اپیل سے متی نَصْرُ الله له کی آیت مراد ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اپیل کی گئی تو وہ آگئی اور سینہ اور کندھوں کو بوسہ دینے سے مراد علم اور یقین کی زیادتی اور طاقت کی زیادتی ہے اور آقا کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ فتح و ظفر مومن کے غلام ہوتے ہیں اور اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اور جسم اور روح کی قربانی سے مراد جسمانی قربانیاں اور دعاؤں کے ذریعہ سے نصرت ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ہمیں حاصل ہوں گی۔عجیب بات ہے کہ رویا میں میں نے چودھری صاحب کو جس لباس میں دیکھا تھا، ان کے آنے پر ویسا ہی لباس ان کے جسم پر تھا گو عام طور پر ان کا لباس اور طرح کا ہوتا ہے۔پھر دوسرے دن میں نے دعا کی تو میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر فضل کریم صاحب آئے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اہل و عیال قادیان میں رہتے ہیں مگر آج کل وہ باہر ملازمت پر ہیں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ جب وہ آئے تو میں نہایت محبت سے ان سے ملا ہوں اور میں کہتا ہوں آپ کے خلاف کسی نے شکایت کی تھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹی ہے۔فضل کریم سے مراد بھی یہی ہے کہ خدا کہتا ہے کہ سب قسم کے کرم یعنی عزتیں تو میرے قبضہ میں ہیں کون آپ کو ذلیل کر سکتا ہے جبکہ میرا فضل ساتھ ہو اور شکائیتیں جھوٹی ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ جو لوگوں۔