خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 301

أطيات مور ہدایت جماعت کے کسی افسر نے بغیر میرے مشورے کے پہلے سے جاری کردی ہوئی ہے اور اسے بھی منسوخ کر کے جماعتوں کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ آدمی نہ بھیجیں۔میں کل فیروز پور گیا تھا مجھ سے راستہ میں بعض احمدیوں نے پوچھا کہ کیا انہیں احرار کے جلسہ پر قادیان آنے کی اجازت ہے اور میں نے انہیں اس سے منع کیا۔حکومت سے ایسے تعاون کرنے کے بعد اس قسم کے حکم کا بھجوادینا حکومت کے وقار کو کھونا ہے اور حکومت کی مضبوطی نہیں بلکہ کمزوری کا موجب ہے اور مجھے افسوس ہے کہ حکومت نے اس قسم کے حکم کو جاری کر کے اس اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے جو اس پر ملک معظم اور ان کی حکومت نے کیا تھا۔بہرحال چونکہ میرا مذہب مجھے وفاداری اور اطاعت کا حکم دیتا ہے میں اس حکم کی جس کی غرض سوائے تذلیل اور تحقیر کے کچھ نہیں، پابندی کروں گا اور اِنْشَاءَ اللہ پوری طرح اس کی تعمیل کروں گا۔باقی اس حکم کی نسبت آئندہ نسلیں خود فیصلہ کریں گی کہ اس کے دینے والے حق پر تھے یا نہ تھے۔وَأَفَوِّضُ أَمْرِئَ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ - (خاکسار مرزا محمود احمد) ان واقعات سے ظاہر ہے کہ: (اول) میں نے جو ہدایت آدمی بلانے کیلئے دی تھی، اس کے ماتحت احکام جاری نہیں ہوئے اور اجراء سے سے قبل ہی ہدایت منسوخ کردی گئی۔(دوم) ہمیں حکومت نے کبھی بھی آدمی بلانے سے منع نہیں کیا اس لئے سول نافرمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔کمشنر صاحب نے خانصاحب سے صرف یہ کہا تھا کہ آپ لوگ کوئی ایسی کارروائی نہ کریں جو اشتعال انگیز ہو اور ہماری گزشتہ تاریخ اور روایات بتاتی ہیں کہ اگر ہمارے دس لاکھ آدمی بھی جمع ہو جائیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ شورش کریں گے سوائے کسی ایسے افسر کے جو دن شراب پینے میں اور رات عیاشی اور برج کھیلنے میں گزار دے کوئی ہمارے اجتماع پر بد گمانی نہیں کر سکتا۔پہلی دفعہ سولہ اکتوبر کو خان صاحب نے آکر مجھے کہا کہ حکومت کا ایسا منشاء ہے۔اس سے قبل ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔مرزا معراج الدین صاحب نے جو گفتگو کی وہ سرکاری حیثیت سے نہ تھی اور اس لئے حکومت اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔وہ پرسوں پھر آئے تھے اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ اس دن کیسے آئے تھے تو انہوں نے پھر کہا کہ میں ذاتی طور پر ملنے آیا تھا اس لئے اس دن کی ان کی گفتگو گورنمنٹ کیلئے مفید نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ذاتی حیثیت سے آئے تھے۔حکومت کی طرف سے اس بارہ میں ہمارے