خطبات محمود (جلد 15) — Page 302
خطبات محمود ٣٠٢ سال ساتھ جو گفتگو کی گئی وہ وہی تھی جو سولہ اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کی اور اس مجلس سے اٹھنے سے قبل میاں شریف احمد صاحب نے بالوضاحت پولیس کے دونوں سپرنٹنڈنٹوں سے کہہ دیا تھا کہ باہر سے لوگوں کو بلانے کیلئے جو حکم جاری کیا گیا ہے، اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔چنانچہ جب کمشنر صاحب اور انسپکٹر جنرل صاحب پولیس اٹھارہ اکتوبر کو قادیان آئے اور ان کے ساتھ یہ افسران بھی تھے تو اس وقت میاں شریف احمد صاحب نے ان دونوں افسروں سے دریافت کیا کہ کیا آپ سے نہیں کہہ دیا گیا تھا کہ ہم اس حکم کو منسوخ کردیں گے اور کیا آپ نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو اس امر کی اطلاع نہیں دی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں اس امر کی اطلاع کر دی گئی تھی اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھی اس مضمون سے اطلاع کردی تھی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس پر نذر کیا کہ بیشک مجھے اطلاع ہو گئی تھی مگر گورنمنٹ کا حکم سولہ کو ہی جاری ہو چکا تھا۔(تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ درست نہ تھا۔گورنمنٹ نے سترہ کو ہی اس حکم کا فیصلہ کیا اور اسی تاریخ کو جاری کیا) چونکہ سولہ کو ڈاک نکل چکی تھی اس لئے سترہ کو خاص آدمی مقرر کر کے تنسیخ کے احکام بھجوادیئے گئے اور حکومت کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی۔(سوم) جو دعوت جاری کی گئی وہ چوہدری فتح محمد صاحب نے دی تھی ناظر امور عامہ کی حیثیت سے۔۔(چهارم) ناظر جتنے ہیں سب انجمن کے ٹرسٹی ہیں اور اپنے اپنے محکمہ کے قانونا بھی اخلاق بھی، مذہبیا اور ہمارے نظام کی رُو سے بھی پورے پورے ذمہ دار ہیں۔حتی کہ نظام سلسلہ انہیں یہاں تک ذمہ دار قرار دیتا ہے کہ اگر کوئی ناظر خلیفہ وقت کے مشورہ سے بھی کوئی کام کرے تب بھی ذمہ دار وہی ہے مشورہ پرائیویٹ سمجھا جائے گا۔اور یہاں تک حکم ہے کہ اگر ناظر کوئی پرائیویٹ مشورہ لے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے اور وہ اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کر سکتا۔ساری ذمہ داری اس پر ہے سوائے اس کے کہ خلیفہ کا تحریری حکم اس کے پاس موجود ہو بلکہ یہاں تک اس بارہ میں پابندی ہے کہ اگر کوئی ناظر غفلت سے تحریری حکم نہ لے اور اس فعل کو خلیفہ کی طرف منسوب کر دے تو وہ اعتماد کو توڑنے والا اور مستوجب سزا ہوگا۔اور ان تمام مذہبی اور قانونی ذمہ داریوں کے مطابق یہ امر واضح ہے کہ ناظر امور عامہ نے جو آرڈر دیا، وہ اس کا ذاتی فعل تھا، مجھ سے اس میں مشورہ بھی نہیں کیا گیا تھا اور اگر کیا