خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 300

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء یہ فعل امن عامہ میں خلل ڈالنے والا ہے اس لئے گورنمنٹ پنجاب تمہیں زیر دفعہ ۳ (۱) (و) پنجاب کریمنل لاء امنڈمنٹ ایکٹ ۱۹۳۲ء ہدایت کرتی ہے کہ (۱) تم ایسے تمام دعوت ناموں کو جو ان تاریخوں پر لوگوں کو قادیان بلانے کیلئے تم نے بھیجے ہیں۔یا تمہارے زیر حکم بھیجے گئے ہیں منسوخ کردو۔(۲) ۲۴- اکتوبر ۱۹۳۴ء تک کسی شخص یا اشخاص کو قادیان بلانے کی غرض سے کوئی دعوت نامہ مت بھیجو۔(۳) ۲۴- اکتوبر ۱۹۳۴ء تک نہ کوئی جلسہ قادیان میں کرو نہ جلسہ کرنے میں محمد بنو۔(۴) ۲۴- اکتوبر ۱۹۳۴ء تک کسی ایسے شخص کا جس کو تم نے بلایا ہو قادیان میں استقبال کرنے یا اس کیلئے کھانے اور رہائش کا انتظام کرنے سے محترز رہو۔آج مؤرخہ ۱۷- اکتوبر ۱۹۳۴ء کو میرے دستخط سے جاری ہوا۔دستخط سی۔گاربٹ چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب۔یہ قانون ۱۹۳۲ء میں پاس کیا گیا ہے۔اور اس کی تمہید میں لکھا ہے کہ وہ سول نافرمانی اور حکومت برطانیہ کو تہہ وبالا کر دینے والی تحریکات کو روکنے کیلئے ہیں اور مجھے یہ حکم دے کر گویا حکومت نے یہ الزام لگایا ہے کہ میں سول نافرمانی کرنے والا یا حکومت برطانیہ کو تہہ وبالا کرنے کی تحریک کرنے والا ہوں میں نے اس حکم کو پڑھتے ہی اس پر حسب ذیل جواب لکھ کر مجسٹریٹ کو دے دیا۔جواب: مجھے گورنمنٹ کے حکم سے اطلاع ہوئی اور میں اپنے مذہب کے حکم اور سلسلہ کی روایات کی وجہ سے اس کی تعمیل کرنے پر مجبور ہوں ورنہ یہ حکم ایسا غیر منصفانہ اور ناجائز ہے کہ ایک شریف آدمی کیلئے یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ایک مہذب حکومت ایسا حکم کس طرح جاری کر سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس فتنہ کو دیکھ کر کہ احرار قادیان میں ایک جلسہ کر رہے ہیں اور وہ علی الاعلان سلسلہ احمدیہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ایک ہدایت دی تھی کہ جماعت احمدیہ کے کچھ لوگ سلسلہ کے مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے جمع کرلئے جائیں لیکن اس ہدایت کے جاری کرنے کے دو گھنٹہ بعد مرزا معراج الدین صاحب سی- آئی ڈی میرے پاس آئے اور میں نے خود ان کو اس ہدایت سے اطلاع دی اور انہوں نے کہا کہ میں پورا انتظام پولیس کا کرادوں گا اس لئے آپ آدمی نہ بلوائیں اور ان کے کہنے کے مطابق اس ہدایت کا جاری کرنا منسوخ کر دیا گیا۔اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایسی۔