خطبات محمود (جلد 15) — Page 237
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۲۳۷ کے عہدیداروں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے محلہ کے مردوں اور بچوں کی شکلیں پہچانیں اور ہر فرد سے ذاتی واقفیت پیدا کریں، اس کے بعد ان کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ بچوں کو نماز باجماعت کی پابندی کی عادت ڈالیں اور پھر تیسرا کام یہ ہے کہ اپنے محلہ کے لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کریں۔جب کسی کا عیب معلوم ہو خصوصاً اپنے دوست اور رشتہ داروں کا تو شخص کا فرض ہے کہ یہ معاملہ پریذیڈنٹ، سیکرٹری اور سرپرست کے نوٹس میں لائے مگر اس طریق پر کہ معاملہ پیش کرنے میں غصہ، بغض اور کینہ کپٹ نہ ہو بلکہ خالص اصلاح اور محبت کا جذبہ کام کر رہا ہو اور اگر کسی شخص کے متعلق معلوم ہو کہ وہ کسی کا عیب غیر متعلق شخص کے سامنے بیان کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ مجرم ہے اور فتنہ پیدا کر رہا ہے۔تمہارا فرض ہے کہ اس کا منہ بند کرو اور اگر اسے نہیں روکو گے تو سارا محلہ تعزیر کا مستحق سمجھا جائے گا۔گویا ہماری جماعت کے دوستوں کی اصلاح کیلئے یہ ایک اخلاقی جنگ ہوگی اور یہ ویسی ہی بات ہوگی شخص جیسے ڈاکٹر کے پاس لوگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پھوڑے میں نشتر مارو - اب کوئی نہیں کہتا کہ کتنا غضب ہو گیا ڈاکٹر نے نشتر چبھو دیا۔اسی طرح جب کوئی شخص ہمیں آکر کہتا ہے کہ میری اصلاح کرو تو ہمارا حق ہے کہ ہم درستی اخلاق کیلئے مناسب قدم اٹھائیں۔اگر اس کی نیت اصلاح کی ہوگی تو وہ ہمارے ساتھ رہے گا اور اگر نیت نہ رہے گی تو کہہ دے گا جاؤ جی میں بیعت توڑتا ہوں اس کے بعد ہمارا اس شخص پر کوئی حق نہیں رہے گا۔بہرحال جب کوئی شخص ہمارے پاس آجاتا ہے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہمارے بتا ہے کہ وہ ہمارے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کام کرے کیونکہ بیعت کے بعد کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنا قدم پیچھے ہٹائے۔رسول کریم ال جب مدینہ گئے تو انصار سے آپ نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر مدینہ پر کوئی قوم حملہ آور ہوئی تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ کرنی پڑی تو ہم ساتھ نہیں دیں گے 21 - جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم ال نے انصار و مہاجرین کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ ! مشورہ کا کیا سوال ہے آپ آگے بڑھیں اور لڑیں ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔آپ نے پھر فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو - مہاجرین نے پھر کہا یا رسول اللہ ! ہماری رائے تو یہی ہے کہ آپ لڑیں۔آپ نے پھر فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو- اس پر انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا يَا رَسُول اللہ ! شاید لوگوں سے مراد آپ کی ہم انصار ہیں کیونکہ مہاجرین تو پے در پے کھڑے