خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 236

خطبات محمود ۲۳۶ سال ۱۹۳۴ء رنگین ہو جاتے ہیں۔اگر معلوم ہو کہ دنیا خراب ہو گئی ہے تو وہ بھی خراب ہو جاتے ہیں اور اگر معلوم ہو کہ دنیا نیک ہے تو وہ بھی نیکی کرتے رہتے ہیں اور اگر انہیں کسی وقت پتہ لگ جائے کہ جنہیں ہم نیک سمجھتے تھے وہ دراصل نیک نہیں تو اُسی دن ان کے دلوں سے بھی نیکی کی عظمت مٹ جاتی ہے اور وہ بھی بدی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے نیکی کو نیکی سمجھ کر قبول نہیں کیا ہو تا بلکہ عام اثر کے ماتحت ایک خیال کی تقلید اختیار کی ہوئی ہوتی ہے۔پس قرآن مجید نے بالوضاحت یہ امر بیان کر دیا ہے کہ جو شخص غیرذمہ دارانہ طریق پر کسی کے عیب بیان کرتا ہے وہ اشاعتِ فحش کرتا ہے اور وہ ویسا ہی مجرم ہے جیسا کہ گناہ کرنے والا- اگر ایک شخص نے چوری کی تو یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہے مگر ایک دوسرا شخص اگر ہر جگہ بیان کرتا پھرے گا کہ آج کل لوگ بڑی کثرت کے ساتھ چوریاں کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ چوری کی ہیبت دلوں سے مٹ جائے گی اور سننے والوں میں سے بھی کئی چور بن جائیں گے۔پس دوسرے کی چوری کے عیب کو ظاہر کرنے والا قوم کا ہمدرد نہیں کیونکہ چوری تو ایک شخص نے کی مگر اس نے چوری کی ہیبت کم کرکے بیسیوں شخصوں کو چور بنا دیا۔ایسے اشخاص یقیناً اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں سرزنش کی جائے اور ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔میں نے بہت کچھ سوچنے اور غور و فکر کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کی سنت کے مطابق کہ دیت ساری قوم پر ڈالی جائے فیصلہ کیا ہے کہ مرکز سلسلہ میں جس محلہ کے کسی فرد کے متعلق آئندہ یہ ثابت ہو کہ وہ دوسروں کے عیب بیان کرتا رہتا ہے اس محلہ پر اس کی حیثیت کے مطابق مُجرمانہ ڈالا جائے تاکہ آئندہ ہر شخص احتیاط کرے اور اس جس کسی کے پاس بھی کوئی کسی کا عیب بیان کرنے لگے وہ اسے فوراً روک دے۔میں نے اس مقصد کیلئے بہت کثرت سے دعائیں کی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی تھی کہ وہ اس نقص کے ازالہ کا کوئی طریق سمجھائے تب یکدم جس طرح الہام ہوتا ہے میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس کے علاج کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جس محلہ کے کسی فرد کے متعلق ثابت ہو کہ وہ لوگوں کی عیب چینی کرتا رہتا ہے اور محلہ کے لوگ اسے روکتے نہیں اس تمام محلہ پر اس کا مُجرمانہ ڈالا جائے تاکہ ہر شخص چوکس ہو جائے اور آئندہ احتیاط کے ساتھ اپنی زبان کھولے۔جب تک لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ دوسروں کی حرمت اور ان کی عزت کا پاس کیا جائے اُس وقت تک کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی پس محلہ