خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 238

خطبات محمود ۲۳۸ سال ۱۹۳۴ء تھا کہ ہوئے اور انہوں نے اپنی خدمات بھی پیش کیں مگر آپ نے یہی فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو اس لئے شاید اس سے مراد ہم انصار ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! بیشک جب اسلام کا نور ابھی ہم میں کامل طور پر داخل نہیں ہوا تھا تو ہم نے آپ سے یہ معاہدہ کیا ہم مدینہ میں ہی دشمن سے لڑیں گے مدینہ سے باہر اگر جنگ ہوئی تو اس میں شامل نہیں ہوں گے۔مگر یار سُول اللہ ! اب تو اسلام ہمارے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکا ہے سامنے سمندر ہے آپ ہمیں حکم دیجئے ہم ابھی اس میں کود پڑتے ہیں اور آپ یہ مت خیال کیجئے کہ ہم آپ سے پیچھے رہیں گے خدا کی قسم !ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور کوئی دشمن اُس وقت تک آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ہماری نعشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے ہے۔یہ وہ ایمان ہے جو بیعت کے بعد ہر انسان کو حاصل ہونا چاہیے اور یہی ایمان ہے جس کے پیدا کرنے کا آپ لوگوں نے اقرار کیا ہے اس کے بعد اگر نظام سلسلہ کی طرف سے کسی کی اصلاح کی غرض سے کوئی قدم اٹھایا جائے تو اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس پر شور مچائے۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اصلاح کی جائے مگر اس کیلئے کوئی سامان نہ کئے جائیں۔یہ تو ویسی ہی بات ہو جاتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی کنجوس شخص تھا اس کا یہ طریق تھا کہ وہ ایک عورت سے شادی کرتا کچھ دنوں کے بعد اس کے روپیہ اور زیور وغیرہ پر قبضہ کر کے اسے چھوڑ دیتا۔پھر دوسری شادی کرتا کچھ عرصہ کے بعد اسے بھی چھوڑ دیتا۔اسی طرح اس نے کئی شادیاں کیں اور کسی نہ بہانے سے سب کو نکال دیا۔آخر ایک اور عورت سے شادی کی وہ ہوشیار اور عظمند تھی۔کئی مہینے نے گذر گئے مگر اس نے کوئی ایسا امر ظاہر نہ ہونے دیا جو اسے ناگوار گزرتا۔اس خیال آیا کہ اگر یہ اس طرح میرے پاس رہی تو میں اس کے زیورات وغیرہ پر قبضہ کس طرح کر سکوں گا۔پھر وہ بھی چونکہ بڑھا ہوچکا تھا اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر میں مرگیا تو میری دولت پر بھی یہ قابض ہو جائے گی۔ایک دن یہ سوچ کر باورچی خانہ میں چلا گیا بیوی روٹیاں پکا رہی تھی جاتے ہی اس نے جو تا اُٹھالیا اور بیوی کے سر پر مارنے لگا اور کہنے لگا کمبخت تو روٹی تو ہاتھوں سے پکاتی ہے تیری کہنیاں کیوں ہلتی ہیں۔وہ عورت عقلمند تھی کہنے لگی آپ ناراض ہو کر کیوں اپنی طبیعت خراب کر رہے ہیں روٹی تیار ہے کھانا کھا لیجئے اس کے بعد جتنا جی چاہے مجھ پر غصہ نکال لیں۔خیر اس کی باتوں سے وہ کچھ ٹھنڈا ہوا اور روٹی کھانے بیٹھ گیا۔جب روٹی۔