خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 217

خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۳۴ء یہ کہنا کبھی درست نہیں ہو سکتا کہ میری محنت اکارت گئی۔پس اگر ہماری جماعت بہتر نتائج کی خواہشمند ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے عمل سے خاص یہ نمونہ قائم کرے۔اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں جو شخص اس کا ہوتا ہے، وہ اسی کا ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ساری دنیا اس کی ہو جاتی ہے۔اگر ساری دنیا مل کر بھی اس کی مخالفت کرے تو آسمان کی شعائیں اس کی مدد کرتی ہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت دل کے اندر پیدا کی جائے اور پھر توکل اور استقلال کے ساتھ اس پر قائم رہیں۔جس رنگ میں بھی نیکی کریں استقلال کے ساتھ کریں تاکہ کوئی نتیجہ نکلے۔دیکھو ایک ایک قطرہ مسلسل اور مستقل طور پر گرتے گرتے پتھر میں گڑھا بنادیتا ہے۔پہاڑوں میں ہم نے دیکھا ہے بعض مقامات پر پانی کا ایک ایک قطرہ گرتا ہے مگر وہ پھر میں گڑھا پیدا کر دیتا ہے لیکن ایک ہی دفعہ اگر ایک بڑی ٹینکی بھی پانی کی بہادی جائے تو کچھ نہیں ہوگا۔پس نیکی میں باقاعدگی ضروری ہے۔جماعت کے نظام کے متعلق ہی میں دیکھتا ہوں کہ جب منافق پیدا ہوتے ہیں اور ان کے متعلق توجہ دلائی جاتی ہے تو سب لوگ جوش میں آجاتے ہیں۔یہاں بھی اور باہر بھی جماعت میں خاص بیداری پیدا ہو جاتی ہے مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایسی خاموشی چھا جاتی ہے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ جب ایک سور اپنے بچے کو چھوڑ جاتا ہے، ایک کتا چھوڑ جاتا ہے ایک شہر چھوڑ جاتا ہے تو منافق نے کیوں نہ چھوڑے ہوں گے اور اس سے جماعت کو محفوظ رکھنے کا کیا فائدہ جب تک اس کے بچوں سے بھی محفوظ نہ کرلیا جائے۔اس کے بچوں سے مراد اس کی جسمانی اولاد نہیں۔اس کی روحانی اولاد تو نہیں کہہ سکتے بلکہ اس کی شیطانی اولاد مراد ہے۔جب تک اس کا بھی علاج نہ کیا جائے، صرف ایک آدھ کے علاج سے یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ان کو چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دو سال کے بعد ایک اور پارٹی نمودار ہو جاتی ہے اور پھر اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے حالانکہ اگر ایک ہی وقت سب کے نفاق کو ظاہر کر دیا جائے تو پھر بھی اگرچہ مرض باقی رہے گا مگر وہ اس قدر نقصان دہ نہ ہو گا جس قدر جڑ کے قائم رہنے کی صورت میں ہوتا ہے اور کم سے کم ہماری ذمہ داری نہ رہے گی۔گو وہ مصر اس صورت میں بھی ہو گا جیسے اگر کسی شخص کے اندر ملیریا کا زہر ہو تو گو اسے بخار نہ ہو تو بھی اس پر مستی طاری رہے گی۔بعض یورپین ڈاکٹروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان ہمیشہ دوسروں کے زیر حکومت اس لئے رہا ہے کہ ہندوستانی ہمیشہ ملیریا کے اثر کے نیچے رہتے