خطبات محمود (جلد 15) — Page 216
خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۴ء موجب ہو جاتے ہیں۔مخلص وہ لوگ ہوتے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اکیلے ہم ہی ذمہ دار ہیں۔اسی طرح بعض لوگ احکام کی فرمانبرداری کرنے کی بجائے حیلے بہانے کرنے لگ جاتے ہیں اور تاویلات میں وقت ضائع کر دیتے ہیں مگر اس طرح کبھی کام نہیں چل سکتا۔ایسے لوگوں کی مثال زمیندار کی سی ہوتی ہے جو آج ہل چلائے، اگلے سال سہاگہ دے اور پھر اس سے اگلے سال تخم ریزی کرے۔اور پھر دو چار سال بعد کھیتی کاٹنے جائے۔ظاہر ہے ایسی فصل اول گے گی ہی نہیں اور اگر آگے بھی تو جانور وغیرہ کھا جائیں گے اور بونے والے کو کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ایسا شخص کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جو بونے سے پہلے ہل چلائے، پھر سہاگہ دے، وقت پر تخم ریزی کرے، آبپاشی کرے اور وقت مقررہ کے اندر اندر کائے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت تک نمازیں پڑھیں گے، روزے رکھیں گئے، چندے دیں گے اور خیال کرلیں گے کہ ہم نے سب کچھ کر لیا حالانکہ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے وہ کسان جو ایک سال ہل چلاتا دوسرے سال سہاگہ دیتا، تیسرے سال بیج بوتا اور چوتھے سال کاٹنے جاتا ہے۔وہ اگر کہے کہ میں نے محنت تو کی تھی مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔تو ہر شخص اسے یہی جواب و دے گا کہ تو نے کب کی تھی مست الوجود ! محنت تو متواتر کام کرنے کا نام ہے، ورنہ کچھ نہ کچھ کام تو ہر شخص کرتا ہے یہ محنت نہیں، یہ تو سستی ہے۔کہتے ہیں کوئی سپاہی سڑک پر جارہا تھا کہ رستہ سے تھوڑی دور کسی نے اسے آواز دی کہ ذرا ادھر آنا۔وہ جب وہاں پہنچا تو دیکھا دو آدمی لیٹے ہیں ان میں سے ایک اسے کہنے لگا بھئی میری چھاتی پر بھیر پڑا ہے، ذرا اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔سپاہی کو غصہ آیا۔اس نے کہا تم عجیب آدمی ہو اس کام کیلئے اتنی دور سے مجھے بلایا تھا اور اسے ڈانٹنے ڈپٹنے لگا۔اس پر دوسرا کہنے لگا آپ ناراض نہ ہوں یہ ہے ہی بہت کاہل اور ست الوجود- دیکھو ساری رات کتا میرا منہ چاہتا رہا مگر اس نے ہش تک نہ کی۔یہ سن کر سپاہی چپکے سے چلا گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ ان کو نصیحت کرنا بیکار ہے۔اب اس شخص نے بھی سپاہی کو آواز دے کر بلایا تھا۔لیکن اگر وہ بھی کہتا کہ میری محنت اکارت گئی تو۔مضحکہ خیز بات تھی۔محنت متواتر اور موزوں کوشش کا نام ہے۔جو شخص آج نماز شروع کرے اور کل چھوڑ دے۔یا ایک دن روزہ رکھ لے اور دوسرے دن ترک کردے اور کوئی نتیجہ نہ نکلے تو اس کا