خطبات محمود (جلد 15) — Page 218
خطبات محمود ۲۱۸ سال ۶۱۹۳۳ ہیں۔اور یورپین ڈاکٹروں کا کیا ذکر خود بنگال کے بعض ڈاکٹروں کی بھی یہی رائے ہے۔پس اندر اگر زہر ہو تو طبیعت میں سستی ضرور ہوتی ہے۔اسی طرح جن لوگوں میں منافقت کا زہر ہو گا وہ سلسلہ کے کاموں میں سست ہوں گے مگر اتنے نقصان دہ نہ ہوں گے۔میں پس اب سب کاموں کے متعلق ہماری جماعت کو اپنا وطیرہ بدلنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر پوری طرح عمل کرنا چاہیئے۔یہ نہیں کہ نماز پڑھی اور روزہ چھوڑ دیا۔یا تبلیغ کی نو چندہ نہ دیا۔اسی طرح نظام سلسلہ کے متعلق بھی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے۔جیسے کپتان جہاز کے پاس ایک چارٹ ہوتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ فلاں راستہ خراب ہے، فلاں مقام پر چٹانیں ہیں، فلاں جگہ پانی تھوڑا ہے۔یا کوئی جہاز کو نقصان پہنچانے والی چیز موجود ہے۔اسی طرح مومن کے سامنے ایک چارٹ ہر وقت ہونا چاہئیے جس سے وہ دیکھتا رہے کہ مجھے کیا کیا امور مد نظر رکھنے چاہئیں پھر اس کی راہنمائی میں روحانی جہاز کو سب خطرات سے بچاتا ہوا لے جائے وگرنہ وہ کسی نہ کسی پہاڑ سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جائے گا اور اگر نہ بھی ٹکرائے تو بھی خطرہ اسے ہر وقت رہے گا۔پس اس لئے بیداری سے کام کرو۔یہ مت خیال کرو کہ ہم تعلیم نہیں، ہم ان پڑھ ہیں۔رسول کریم ﷺ نے ظاہری تعلیم حاصل نہ کی تھی مگر پھر بھی آپ کی کوئی مثال دنیا پیش نہیں کر سکتی۔اور بھی کئی ایسی ہستیاں گذری ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ کے اندر ترقیات حاصل کیں۔نادر شاہ بالکل ان پڑھ تھا اور ایک گڈریے کا بیٹا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے ایران، ہندوستان اور افغانستان کو فتح کر لیا۔کسی نے اس سے دریافت کیا کہ آپ کے باپ کا نام کیا ہے۔اس سوال کے جواب میں اس نے تلوار کی طرف اشارہ کر کے کہا میں اسی کا بیٹا ہوں۔یعنی میرا باپ تو بڑا آدمی نہیں تھا لیکن میری تلوار بڑی ہے۔اسی طرح چند سال ہوئے بچہ سقہ نے ایک زبردست بادشاہ کو جو یورپ کی سلطنتوں پر بھی اپنی بڑائی کا سکہ جمانے گیا تھا، ملک سے ایسی صفائی کے ساتھ نکال دیا جیسے مکھن بال نکال دیا جاتا ہے۔پس ظاہری بڑائی کوئی چیز نہیں۔انسان اگر غور کرے، اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو قوت مقابلہ خود بخود اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔جب تک یہ قوت پیدا نہ ہو، عقل بھی کام نہیں دیتی۔جب دل میں لگن نہ ہو تو دماغ بھی منجمد ہو جاتا ہے۔پس دین اسلام کیلئے اپنے دل میں لگن پیدا کرو۔پھر گو تم لکھے پڑھے نہیں خود بخود ہر بات کو سمجھتے جاؤ گے۔ہر شخص اگر اپنے ارد گرد اصلاح کی کوشش شروع کردے۔یہاں کے دارالرحمت والے اپنے محلہ میں،