خطبات محمود (جلد 15) — Page 170
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء یعنی پہلے انبیاء اور بعد میں خلفاء جو ان کی تربیت کرتے ہیں لیکن اگر ایمان کمزور ہو اور پھر انسان تربیت کی بھی پرواہ نہ کرے تو ظاہری ایمان دار کہلانے سے بجائے کسی فائدہ کے عقل اور بھی کوتاہ ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں پڑھ کر دیکھو کس طرح بار بار عقل سے کام لینے کا حکم ہے۔بار بار آتا ہے کہ تم تفقہ نہیں کرتے کیوں شعور سے کام نہیں لیتے کیوں عقل نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر عقل اور فکر اور شعور کے انسان پوری طرح ایمان سے بھی کام نہیں لے سکتا۔ایمان مغز ہے اور یہ چھلکا ایمان دودھ ہے اور یہ پیالہ۔کوئی دودھ بغیر پیالہ کے اور کوئی مغز بغیر چھلکا کے نہیں رہ سکتا۔ہر مغز کا ایک چھلکا ہوتا ہے۔بادام کو ہی دیکھ لو اس کے اوپر ہے' کتنا سخت چھلکا ہوتا ہے۔پھر اندر سے جو مغز نکلتا ہے۔اس پر ایک باریک سا چھلکا ہوتا اس کے نیچے مغز نکلتا ہے۔پھر اس میں سے بھی مغز اس کا رس ہوتا ہے۔اور باقی فضلہ، اسی طرح یہ بات چلتی جاتی ہے۔میں پہلے بھی دوستوں کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مومن کو غور کرنا چاہیے۔کئی سال ہوئے چھ سات سال بلکہ اس سے بھی زیادہ غالباً ۲۴-۱۹۲۵ء کا واقعہ ہے کہ میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ رسول کریم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے که دروازه پر بار بار دستک نہیں دینی چاہیئے اور باہر نکلنے کا انتظار کرنا چاہیئے اے۔مگر بعض لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور بار بار دستک دیتے یا آوازیں دیتے ہیں۔اُن دنوں میں گول کمرہ میں بیٹھتا تھا۔بعض اوقات کسی ضروری کام میں مصروف ہوتا کہ جھٹ آکر کوئی دستک دے دیتا اور اس طرح کام میں حرج ہوتا۔پھر میں نے کئی بار سمجھایا ہے کہ رقعہ پڑھنے پر زیادہ وقت خرچ ہوتا ہے، اس لئے زبانی بات بتادینی چاہئیے اس طرح کام جلد ہو جاتا ہے۔اور ایسے وقت میں کہ حرج نہ ہو مثلاً مسجد میں میں جب آؤں جاؤں یا نمازوں کے بعد بیٹھوں تو دعا کیلئے کہا جاسکتا ہے لیکن اگر پچاس ساٹھ رقعے دے دیئے جائیں تو انہیں پڑھنے میں گھنٹہ پون گھنٹہ صرف ہو جائے گا۔یا مثلاً مصافحہ ہے بعض لوگ پانچوں وقت مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور پانچوں وقت ہی قطار باندھ کر مصافحہ کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حالانکہ مصافحہ کے معنی ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ جب کوئی شخص باہر سے آئے یا باہر جائے یا دیر سے ملے تو مصافحہ کر لیا جائے روزانہ ہی پانچ بار بے تحاشہ مصافحہ کرتے چلے جانا بے معنی بات ہے۔یہ طریق نہ سنت سے ثابت ہے اور نہ عقل ہے۔یہ محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔قادیان کی آبادی اب