خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 169

خطبات محمود 149 مومن کو ہمیشہ عقل و فکر اور شعور سے کام لینا چاہیئے فرموده ۸ - جون ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء ہے۔تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ایمان اور عقل و فکر اور شعور، یہ ایسی لازم و ملزوم باتیں ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے مجدا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ایمان کے ساتھ ہی انسان کو عقل اور شعور و فکر کا ایسا درجہ حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ درجہ دوسروں کو نہیں حاصل ہو سکتا کیونکہ عقل و فکر اور شعور وہ قوتیں ہیں جو اپنی ہدایت اور روشنی کیلئے نور کی محتاج ہیں اور یہ نور ایمان سے وابستہ ہوتا فطرتِ صحیحہ کے ساتھ بھی بیشک اس کا تعلق ہوتا ہے اور اس لئے کافر بھی اس سے حصہ پاتے ہیں مگر مومن ضرور حصہ پاتے ہیں۔ممکن ہے ایک شخص کافر ہو مگر ساتھ ہی عقل وشعور اور فکر سے کام لینے والا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایک کافر ہو اور عظمند نہ ہو، شعور اور فکر سے کام لینے والا نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ سچا مومن ہو اور عظمند، صاحب شعور اور صاحب فکر نہ ہو۔۔کس ایمان کے ساتھ شعور اور فکر اور عقل اور تفقہ کو ایک گہری وابستگی ہے۔ہے۔گو نہیں کہہ سکتے کہ ایمان عقل اور شعور کا نام ہے لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیزیں ایمان سے جُدا ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انبیاء مبعوث کرتا ہے تو ان کے ذریعہ جو جماعتیں قائم ہوتی ہیں، وہ ہر میدان میں دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہیں کیونکہ ایمان کے ساتھ ہی خاص عقل پیدا ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو ایسے مربی عطا کرتا ہے