خطبات محمود (جلد 15) — Page 171
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء بہت وسیع ہو چکی ہے اس لئے جو لوگ محلوں میں رہتے ہیں، ان میں سے کئی پانچ چھ دن کے بعد مجھ سے ملتے ہیں۔جمعہ کے روز یا کسی اور دن جو انہوں نے اس غرض کیلئے مقرر کیا ہوتا ہے ان کا اپنے آپ کو روشناس کرانے اور اپنے آپ کو یاد دلانے کیلئے مصافحہ کرنا ایک معقول بات ہے۔یا پھر باہر جانے یا باہر سے آنے والوں کیلئے۔یا میرے جانے یا آنے پر مصافحہ کیا جاسکتا ہے۔مگر پانچ وقت ہی مسجد میں ہر روز مصافحہ کرنا کسی سنت سے ثابت نہیں۔منہ سے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنا تو مسنون ہے۔مگر یہ مصافحہ سوائے ضیاع وقت کے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔پھر اس میں بعض دفعہ روشناس کرانے والی بات بھی نہیں ہوتی۔بعض دفعہ بغل کے نیچے کوئی ہاتھ نمودار ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ میں آگے ہوتا ہوں اور کوئی پیچھے سے میرے ہاتھ کو مروڑ رہا ہوتا ہے اور میں قیاس سے سمجھتا ہوں کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے۔پھر میں نے کئی بار دیکھا ہے بعض لوگ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ہم نے تو بزرگوں سے یہ سنا ہے کہ بڑے چھوٹوں کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں اس کی غرض برکت دینا ہوتی ہے لیکن بچوں کا باپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا یا مریدوں کا امام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا بالکل عجیب بات ہے۔اسی طرح میں نے کئی دوستوں کو دیکھا ہے اور توجہ بھی دلائی ہے کہ وہ دبانے بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ دیگر فنون کی طرح دبانا بھی ایک فن ہے اور ہر شخص اسے نہیں جانتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے دیکھا ہے کہ آپ بعض دفعہ دبانے والوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے کی وجہ سے اُٹھ کر چلے جاتے۔کوئی ایسا دبانے والا بیٹھ جاتا کہ آپ کو بھجلی ہونے لگتی۔آپ طبیعت کی شرم کی وجہ سے کہہ نہ سکتے کہ ایسا نہ کرو اور اُٹھ کر اندر تشریف لے جاتے۔جتنے لوگ دماغی کام کرنے والے ہوتے ہیں ان کی اعصابی حسّ بہت تیز ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھجلی پیدا کرنے والی چیز برداشت نہ کرسکتے تھے۔میرا بھی یہی حال ہے۔پھر میری یہ حالت ہے کہ اگر میرے بدن پر ہاتھ رکھ دیا جائے تو میری حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے۔ایسے موقع پر میں اکثر چلا جاتا ہوں۔یا اگر کوئی ضروری کام ہو یا بات ہو رہی ہو تو اپنے نفس پر جبر کر کے منع کر دیتا ہوں۔وہ تو برکت حاصل کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں مگر مجھے گدگدی اور کھجلی ہوتی ہے کہ طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوتا ہے۔پھر کئی لوگ ہیں کہ وہ دبانے لگتے ہیں مگر دو چار بار دبا کر پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ یہ تو برابر کے دوست کیلئے بھی معیوب بات ہے چہ جائیکہ