خطبات محمود (جلد 15) — Page 503
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء جماعت احمدیہ کی موجودہ مشکلات و مصائب اور رمضان المبارک (فرموده ۱۴- دسمبر ۱۹۳۴ء) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدًى وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أَخَرَيُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُشَرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةُ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدْ اهَدُكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور پھر فرمایا :- ہم اس وقت رمضان کے مہینے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ پہلا جمعہ ہے جو اس مہینہ میں آیا ہے اور ان دنوں ونوں کی یاد دلاتا ہے۔ وہ ا مبارک دن وہ دنیا کی سعادت کی ابتداء کے دن وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکت کے دروازے کھولنے والے دن جب دنیا کی گھناؤنی شکل اس کے بدصورت چہرے اور اس کے اذیت پہنچانے والے اعمال سے تنگ آکر محمد مصطفى الغار حرا میں جاکر اور دنیا سے منہ موڑ کر اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر صرف اپنے خدا کی یاد میں مصروف رہا کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ دنیا سے اس طرح