خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 504

خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۴ء بھاگ کر وہ اپنے فرض کو ادا کریں گے جسے ادا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے۔انہی تنہائی کی گھڑیوں میں، انہی جدائی کے اوقات میں اور انسی غورو فکر کی ساعات میں رمضان کا مہینہ آپ پر آگیا۔اور جہاں تک معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے چوبیسویں رمضان کو وہ جو دنیا کو چھوڑ کر علیحدگی میں چلا گیا تھا اسے اس کے پیدا کرنے والے اس کی تربیت کرنے والے اس کو تعلیم دینے والے اور اس سے محبت کرنے والے خدا نے حکم دیا کہ جاؤ اور جاکر دنیا کو ہدایت کا رستہ دکھاؤ اور بتایا کہ تم مجھے تنہائی میں اور غار حرا میں ڈھونڈتے ہو مگر میں تمہیں مکہ والوں کی گالیوں اور ان کے شور وشغب میں ملوں گا۔جاؤ اور اپنی قوم کو پیغام پہنچا دو کہ میں نے کو ادنیٰ حالت میں پیدا کر کے اور پھر ترقی دے کر اس لئے دنیا میں نہیں بھیجا کہ تم کھاؤ پیو اور مرجاؤ اور کوئی سوال تم سے نہ کیا جائے۔وہ لوگ جو اپنی زندگی کا مقصد ہی عیش و طرب سمجھتے تھے، جن کے نزدیک دنیا طلبی ہی خدا طلبی کا نام تھا جو ہر ایک عیش و آرام کو اپنا حق سمجھتے تھے ان کو جاکر یہ کہنا کہ اپنے اوقات نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے میں صرف کرو اپنے اموال بجائے شراب میں اڑانے اور جوئے میں ہارنے کے خدا کے رستے میں اور غریبوں کی پرورش میں خرچ کرو بظاہر وہی تھی جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا۔کون امید کر سکتا تھا کہ اس آواز کے مقابلہ میں ان کے قلوب سے بھی ایک آواز اٹھے گی اس سُریلی تان کے مقابلہ میں ان کے قلوب کوئی شعور محسوس کریں گے، خود محمد رسول الله الے بھی حیران رہ گئے جب آپ کو یہ حکم دیا گیا تو آپ نے جبرائیل کو حیرت سے دیکھ کر کہا کہ مَا أَنَا بِقَارِي سے میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔یعنی اس قسم کا پیغام مجھے عجیب معلوم ہوتا ہے۔کیا یہ الفاظ میرے منہ سے مکہ والوں کے سامنے زیب دیں گے کیا میری قوم ان کو قبول کرے گی اور سنے گی مگر اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو متواتر حکم دیا گیا کہ جاؤ اور پڑھو۔جاؤ اور پڑھو۔جاؤ اور پڑھو۔تب آپ نے اس آواز پر اور اس ارشاد کی تعمیل میں تنہائی کو چھوڑا اور جلوت اختیار کی مگر وہ کیسی مجلس تھی؟ وہ ایسی مجلس تھی کہ جس میں ایک دوست بیٹھ کر دوسرے دوست کے سامنے اپنے شکوے بیان کرتا ہے، وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں دوست اپنے دوست کے خوش کرنے والے حالات سنتا اور لطف اٹھاتا ہے، وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں انسان اپنی ذہنی کوفت اور تکان کو دور کرتا ہے