خطبات محمود (جلد 15) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۴۱۹۳۳ حاصل نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا فضل کرے اور ان کو کامل تقویٰ عطا کرے کہ جو دائمی زندگی کیلئے بطور دوران خون کے ہے کہ جب تک خون چلتا ہے زندگی کی امید رہتی ہے۔ہے سابقون کے معنی میرے نزدیک یہ ہی ہیں کہ جس نے سنا اور ہفتہ کے اندر اندر لبیک کہہ دیا رقم دے دی یا وعدہ کر لیا۔یا وہ جنہوں نے حکم سنتے ہی دوسری خدمات کیلئے اپنے آپ کو پیش کردیا۔کیونکہ یاد رکھو کہ جن نوجوانوں نے تبلیغ کیلئے اپنے نام پیش کئے ہیں، وہ کسی کم نہیں بشرطیکہ وہ اپنے دعوئی کو سچا ثابت کر دکھائیں یا وہ سابقون میں سے ہیں جنہوں نے سنا اور دوسروں کے مشمول کے خیال سے ابھی اطلاع نہیں دی اور اس انتظار میں ہیں کہ دوسروں کی لسٹ کے ساتھ اپنے نام بھجوائیں گے۔یا وہ جنہوں نے خیال کیا کہ دوسروں کو بھی تیار کر کے اپنے نام بھجوائیں گے۔یا جنہوں نے ارادہ کر لیا مگر کسی روک کی وجہ سے اطلاع نہیں دے سکے۔یہ سب سابقون میں سے ہیں کیونکہ سابقیت دل سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ظاہر سے۔ہاں جسے جب اطلاع ہو اس کا ہفتہ وہیں سے شروع ہوگا اور سبقت یہی ہے کہ آدمی سنے اور مان لے۔رسول کریم ال سے حضرت ابو بکر رضی اللہ نے دریافت کیا تھا کہ کیا آپ نے ایسا ایسا دعویٰ کیا ہے۔آپ دلیل دینے لگے تو کہا مجھے دلیل کی حاجت نہیں۔صرف یہ فرمائیے کہ دعوی کیا ہے یا نہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔تو انہوں نے کہا میں ایمان لاتا ہوں اے۔رسول کریم انا نے فرمایا ہے کہ جمعہ میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اس میں ہر دعا جو کی جائے قبول ہو جاتی ہے ہے۔آج رات میں نے تجد میں دعا کی کہ الہی مجھے توفیق دے کہ میں ان سابقون کیلئے دعا کروں اور وہ ساعت مجھے نصیب ہو اور ان کے حق میں میری دعائیں قبول ہوں۔گو بعد والے بھی دعاؤں سے حصہ حصہ پائیں گے مگر جس طرح رسول کریم نے محلّقین کو مُقَصِّرِین پر فضیلت دی تھی، سابقون کو ان پر فضیلت ہوگی اور سابق دوہرے اجر پائیں گے اس لئے کہ جو رکتا اور جھجکتا اور پھر اپنے آپ کو پیش کرتا ہے اس سے آواز سنتے ہی لبیک کہنے والے کا درجہ بہر حال زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس روحانی جنگ کو اپنی ستی یا تکلیف سے بچنے کے خیال سے پیچھے نہ ڈالیں بلکہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق دلیری اور جرات سے اسے قریب لانے کی کوشش کریں اور پھر اس میں نڈر ہو کر کود جائیں اور آگ اور خون کی ندیوں میں سے