خطبات محمود (جلد 15) — Page 500
خطبات محمود ۵۰۰ سال ۱۹۳۴ء ہمارے لئے بوجھ ہوں گے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم بچے بھی ہوں اور خون کی ندیوں سے گزرے بغیر کامیاب بھی ہو جائیں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ بچے کو دیکھ کر کفر جوش میں نہ آئے اور اسے مٹانے اور اس کے حاملوں کو قتل کرنے کے درپے نہ ہو۔ہمارا فرض ہے کہ ہم یہ حق ادا کریں۔اگر روحانی معنوں میں اپنی جانیں دینی پڑیں تو اس سے دریغ نہ کریں اور اگر جسمانی معنوں میں دشمنوں کے حملوں کا شکار ہونا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔بہرحال۔موت کا قبول کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اگر ہم اس کے بغیر کامیاب ہو جائیں تو یہ دنیوی فتح ہوگی۔الہی سلسلے بغیر آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزرنے کے کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب آگ دیکھی تھی تو خدا نے اس میں سے پکار کر کہا تھا کہ اني أنا الله اور اس کا یہی مطلب تھا کہ اگر میرے پاس آنا چاہو تو تمہیں آگ میں سے گزرنا ے گا۔پس تمہیں آگ میں کودنا ہوگا اور خون کی ندیوں میں سے گزرنا پڑے گا۔تب فتح حاصل کر سکو گے اور وہی فتح قیمتی ہے جسے انسان جان دے کر حاصل کرتا ہے۔جس طرح کہ ہمارے آقا سیدنا و مولانا حضرت محمد لی اور ان کے نائب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ اس روحانی اور مذہبی جنگ کی بنیاد رکھی جائے جس سے شیطان کو ہم نے کچلنا ہے اور دشمن سے نڈر ہو کر مقابلہ کیا جائے۔اب وقت آگیا ہے کہ مخالفت کو بڑھنے دیا جائے اور دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے۔یعنی گو اس سے مقابلہ کیا جائے مگر مداہنت کا کوئی رنگ نہ ہو۔جھوٹی صلح کے لئے کوئی کوشش نہ کی جائے سوائے ان لوگوں کے جو بچے طور پر ہم سے مل کر کام کرنا چاہیں کسی غیر سے تعلق نہ رکھا جائے۔ان صاف دل لوگوں کے ہم خیر خواہ ہوں گے اور انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں گے لیکن اب ہم دوغلی طبیعت والوں سے یا ان سے جو سلسلہ کو حقیر سمجھتے ہیں، کبھی مل کر کام نہیں کریں گے۔ہر قوم کا راست باز ہمارا دوست ہو گا مگر زمانہ ساز آدمی خواہ ہماری جماعت میں شامل ہو ہمارا دشمن سمجھا جائے گا۔آخر میں میں سابقون کیلئے دعا کرتا ہوں، ان ظاہر و باطن غریبوں کے لئے بھی جن کا دل بھی غریب اور جسم بھی غریب ہے اور ان کیلئے بھی جو ظاہری مالدار نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل انکسار اور تذلل اور اطاعت کے جذبات سے لبریز ہیں وہ بھی اپنے آپ کو اسی طرح سلسلہ کا مال سمجھتے ہیں جس طرح غرباء اور لوگوں میں اپنی بڑائی ظاہر نہیں کرتے اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اموال خدا تعالی کی امانتیں ہیں اور ان کی وجہ سے انہیں غرباء پر کوئی فضیلت