خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 476

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء پکائیں کہ کھانا بوجھ ہو جائے۔حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر نے آپ کے پاس شکایت کی کہ مجھے بھوک نہیں لگتی، معدہ خراب ہے اور بہت دوائیاں استعمال کی ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کیا کھاتے ہو۔اس نے جواب دیا کہ میں ہر طرح کوشش کرتا ہوں کہ کوئی چیز میری طبیعت کے موافق ہو تو میں پیٹ بھر کر کھاؤں اور اسی غرض سے میرے دستر خوان پر تیس چالیس کھانے آتے ہیں اور میں سب کو چکھتا ہوں کہ کونسا مزیدار ہے تا اسے کھاؤں مگر باوجود اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں کی موجودگی کے کسی چیز کے کھانے کو دل نہیں چاہتا حالانکہ بات یہ تھی کہ اتنے کھانے چکھنے سے ہی اس کا پیٹ بھر جاتا تھا۔اگر ہر ایک کھانے سے چکھنے کیلئے دو دو لقمے بھی لے تو اسی لقمے ہو گئے اور اتی لقمے کھانے کے بعد انسان اور کیا کھائے گا۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ تمہاری سوء ہضمی کا علاج بہت مشکل ہے اور میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔اس چکھنے کو آپ چکھنا کہتے ہیں حالانکہ سو کے قریب لقمے اسی طرح کھا جاتے ہیں۔پس یہ احتیاط برتی جائے کہ کھانوں کی اقسام زیادہ نہ ہوں اور اتنا نہ ہو کہ ضائع جائے اور ایسے قیمتی کھانے نہ پکائے جائیں جن پر زیادہ خرچ آتا ہو لیکن عیدین کیلئے یہ پابندی نہیں کہ ایک سے زائد کھانے نہ کھائے جائیں۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ضرور ایک سے زیادہ ہی پکائے جائیں۔اور جن کے گھروں میں دوسرے دنوں میں فاقہ ہوتا ہو وہ بھی عید کے روز ضرور ہی ایک سے زیادہ کھانے پکائیں بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ چونکہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ عیدین ہمارے لئے کھانے پینے کے دن ہیں اس لئے عیدین کے موقع کو اس پابندی سے مستثنیٰ سمجھا جائے گا کہ ضرور ایک ہی کھانا پکے اور اقتصاد کو مد نظر رکھنے کا عہد ان دنوں میں اسراف سے اجتناب کرنے کی صورت میں نباہا جائے گا بغیر کسی معین صورت پر عمل کرنے کے۔عیدین کے موقع پر ایک اور وقت بھی ہے کہ دوست ایک دوسرے کو تحائف بھیجتے ہیں۔یہ بھی رسول کریم ﷺ کی سنت ہے ہے اور میں اسے بھی روک نہیں سکتا اور اس طرح بھی ایک سے زیادہ کھانے کھانے پڑتے ہیں اس لئے میں منع نہیں کرتا اور یہی ہدایت دیتا ہوں کہ یہ ملحوظ رہے کہ جس قدر کفایت ممکن ہو کی جائے۔بعض دوست سوال کرتے ہیں کہ بعض لوگ عادت یا بیماری کے علاج کیلئے بعض اشیاء