خطبات محمود (جلد 15) — Page 477
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء استعمال کرتے ہیں۔بعض ممالک میں دودھ ساتھ پیتے ہیں۔وہ کھانا دودھ کے ساتھ نہیں کھاسکتے مگر علیحدہ دودھ ضرور پیتے ہیں۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ دودھ پینے کی چیز ہے کھانے کی نہیں گو عربوں میں تو دودھ کھانے کے طور پر ہی استعمال ہوتا تھا اور جب کوئی دودھ پی لیتا تو سمجھ لیا جاتا کہ کھانا کھا لیا مگر ہمارے ہاں یہ رواج نہیں۔پس اگر کسی کی صحت پر اثر پڑتا ہو یا عادت ہو تو اس سے لطف پیدا نہیں ہوتا۔اول تو دودھ ہمارے ملک میں صحت کیلئے ہی سب کو پینا پڑتا ہے کسی نے کسی وقت پی لیا اور کسی نے کسی وقت۔عام طور پر زمیندار لوگ رات کو دودھ ضرور پیتے ہیں اور دوسرے بھی پیتے ہیں۔شاید چند افراد میرے جیسے جنہیں ہضم نہیں ہوتا یا وہ لوگ جن کو میسر نہیں آسکتا نہ پیتے ہوں ورنہ عام طور پر لوگ پیتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کا سوال نہیں ان کو اجازت ہو تو بھی استعمال نہیں کرسکتے۔مجھے ہضم ہی نہیں ہوتا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بہت جتن کئے اور فرمایا کہ مجھے نسخہ آتا ہے، دودھ ضرور ہضم ہو جائے گا مگر آخر آپ تھک کر رہ گئے۔میں تو زیادہ دودھ کی کچی لتی بھی نہیں پی سکتا۔اگر کبھی کسی بیماری کے علاج کے طور پر پینی پڑے تو اس طرح پیتا ہوں کہ دو تین پیچے دودھ کے اور ایک گلاس پانی۔اور اگر کبھی دودھ پی لوں تو فورا گلا خراب دودھ ہو جاتا ہے۔پس بیمار کیلئے شرط کوئی نہیں۔اور یہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ جو چیز طبیب بتائے اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔یہ بات جو کھانے کے متعلق میں نے بتائی ہے یہ صحت کی درستی کیلئے ہے نہ کہ خرابی کیلئے اور صحت کیلئے اگر ڈاکٹر پانچ کھانے بھی بتائے تو وہ کھانے ضروری ہیں۔یہ آگے ڈاکٹر اور اللہ تعالیٰ کا معالمہ ہے کہ ڈاکٹر دیانت داری سے ایسا مشورہ دیتا ہے یا نہیں۔امریکہ میں جن دنوں شراب کی ممانعت کا قانون رائج تھا لوگ ڈاکٹروں کو بڑی بڑی فیسیں دے کر سرٹیفکیٹ لے لیتے تھے کہ صحت کیلئے شراب پینا ضروری ہے اور پھر اس اجازت کی آڑ میں خوب شراب پیتے تھے۔پس اگر کوئی شخص ڈاکٹر کو ساتھ ملا کر ایسی اجازت حاصل کرلیتا ہے تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے ساتھ ہے اور ایسے لوگوں کا یہاں سوال نہیں یہاں تو اخلاص والوں سے خطاب ہے۔ہمارے ملک میں کہا جاتا ہے کہ تالے تو بھلے مانسوں کیلئے ہوتے ہیں نہ کہ چوروں کیلئے چور تو انہیں جھٹ توڑ لیتے ہیں اسی طرح ہمارے قوانین بھی مخلصین کیلئے ہیں جن کے اندر اخلاص نہیں، ان کیلئے کوئی قانون