خطبات محمود (جلد 15) — Page 475
خطبات محمود ۴۷۵ سال - والے ہیں، اللہ تعالی ہی سب کچھ جانتا ہے اور وہ اپنے بندوں کو جس قدر مناسب سمجھے بتاتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے انسداد کیلئے کیا کرنا چاہیئے۔پس اس سکیم میں میں نے صرف حال کو ہی نہیں بلکہ استقبال کو بھی مد نظر رکھا ہے اور صرف یہی نہیں سوچا کہ موجودہ حملے سے کس طرح محفوظ رہا جائے بلکہ یہ بھی مد نظر ہے کہ آئندہ نتائج سے بھی جماعت کو بچایا جائے۔گو یہ بات بھی ہے کہ بعض طبیعی نتائج ایسے ہو سکتے ہیں جن کیلئے ہمیں مزید تدابیر اختیار کرنی پڑیں۔مگر یہ دُور کی باتیں ہیں اس لئے ابھی میں ان کو چھوڑتا ہوں۔کھانے کے متعلق میں نے بعض ہدایات دی تھیں۔اس بارہ میں بعض سوالات کئے گئے ہیں ان کا اب جواب دیتا ہوں تا دوسرے لوگ بھی واقف ہو جائیں۔ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ عید کے موقع پر کیا ہو گا؟ یہ سوال پہلے ہی میرے ذہن میں تھا اور میں نے پہلے ہی اس پر غور کیا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عیدیں ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔21۔پس اس حدیث کی بناء پر عیدین کیلئے وہی عہد کہ جو ہم نے دوسرے دنوں کیلئے کیا ہے، اسی صورت میں جاری نہیں کیا جاسکتا ہاں اس صورت میں وہ عیدوں کیلئے بھی ہے کہ عیدوں کے وقع پر بھی کھانے پینے میں کفایت کو مد نظر رکھا جائے۔دوسرے دنوں کیلئے تو یہ ہے کہ صرف ایک ہی سالن استعمال کیا جائے یا جو میٹھا کھانے کے عادی ہیں، وہ ایک ہی قسم کی کوئی میٹھی چیز بھی تیار کرلیں یا جو لوگ کبھی کبھار کوئی میٹھی چیز تیار کرلیتے ہیں وہ بھی کر سکتے ہیں لیکن روٹی کے ساتھ یا چاول کے ساتھ سالن ایک ہی ہونا چاہیے مگر عیدوں کیلئے یہ پابندی نہیں کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عیدین کھانے پینے کے دن ہیں مگر یہ نہیں فرمایا کہ یہ اسراف کے دن ہیں اور یہ فرمانے سے کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، یہ مراد نہیں لیا جاسکتا کہ کھانا تو ایک ہی پکایا جائے لیکن کھایا زیادہ جائے کیونکہ زیادہ کھانے سے بدہضمی کی شکایت ہوگی اور اسلام بیمار کر دینے والے حکم نہیں دے سکتا۔پس اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم عیدوں کے ایام میں ایک۔زیادہ کھانے کھا سکتے ہیں۔عیدوں کے موقع پر رسول کریم ال خود بھی کھانے استعمال کر لیتے تھے اور پھر کئی دفعہ کھالیتے تھے۔پس عیدین کے متعلق میری ہدایت یہی ہے کہ ہمیشہ کی نسبت کھانوں میں کمی کی جائے۔جو لوگ پانچ چھ کھانے تیار کرتے ہوں وہ چار کریں اور جو چار پانچ کرتے ہیں وہ تین چار کریں اور وہ لوگ بھی جو اپنے گھروں میں اس سے کم پکاتے ہیں ، وہ بھی یہ امور مد نظر رکھیں کہ زیادہ خرچ والے کھانے نہ پکائیں اور اتنا نہ