خطبات محمود (جلد 15) — Page 445
خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۴ء میں ان کو لوگ حقیر اور ذلیل سمجھتے ہوں گے مگر ان کے بیلنے کا منہ اگلے جہان کی طرف ہوگا اور اس میں سے نکلنے والے رس سے شکر اور کھانڈ بن رہی ہوگی۔ جب وہ وہاں جائیں گے تو اس کے ڈھیر ان کے سامنے لگا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو یہ قند تمہارے اعمال نے تیار کیا تھا۔ اسے لو اور اپنا منہ میٹھا کرو۔ اس دنیا میں ان کو ذلیل سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کے کام کا فضلہ ادھر گر رہا تھا اور رس اگلے جہاں میں۔ لیکن کچھ وہ لوگ جو یہاں معزز سمجھے جاتے ہونگے وہاں ذلیل ہوں گے کیونکہ ان کے اعمال کا فضلہ وہاں جمع ہو رہا تھا اور رس اس جہان میں۔ اس دن جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان جمع کئے جائیں گے اُمتیں انہی پر فخر کریں گی جنہیں دنیا کی مجلسوں میں ذلیل سمجھا جاتا تھا مگر جو اپنے اخلاص کی وجہ سے خدا تعالی کے نزدیک معزز تھے۔ اس مجلس میں وہی معزز قرار دیئے جائیں گے اور ہزاروں آدمی جو یہاں انہیں رشتہ دار سمجھنے کیلئے تیار نہیں، وہاں اپنے آپ کو ان کے قریبی رشتہ دار قرار دیں گے۔ قرآن کریم میں اس موقع کا کیا ہی عجیب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ مومنوں کے ساتھ منافقوں کی ایک ایسی جماعت ہے جو قربانیوں میں شامل نہیں ہوتی اور وہ مومنوں سے کہتے ہیں تم مخلص ہو ہم منافق ہی سہی تم قربانیاں کرو ہم شریک نہیں ہو سکتے۔ فرمایا جب قیامت کے دن مومنوں کو نور دیا جائے گا جو جنت کی طرف راہنمائی کرے گا تو وہ لوگ جو دنیا میں مومنوں سے تمسخر کرتے تھے ٹھوکریں کھاتے ہوئے ان کے پیچھے چلتے ہوں گے اور عاجزانہ طور پر درخواست کریں گے کہ ہمیں بھی نور دے دو۔ چونکہ نور خدا تعالی ہی دے سکتا ہے اس لئے مومن ان سے کہیں گے یہ نور تمہیں نہیں دیا جاسکتا تم پیچھے مڑو، وہاں سے ہی نور مل سکتا ہے ہے ۔ یعنی اُسی دنیا میں سے مل سکتا ہے جس سے تم نے حاصل نہیں کیا۔ پس یہ جو غرباء ہیں، ان کی رقوم سے گو کوئی معتد بہ زیادتی نہیں ہوئی مگر وہ جو اس کا وہ جو اس کا نتیجہ جماعت کو ملنے والا ہے اور جو خدا خدان تعالیٰ کی طرف سے سے فضل فط کی صورت میں نازل ہونے والا ہے اس میں یقیناً ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اور آسودہ حال لوگ جبھی ان کے برابر ثواب کما سکتے ہیں جبکہ رقم کی زیادتی کے ساتھ نہیں بلکہ نسبتی قربانی کے ساتھ ان کے برابر ہو جائیں۔ ورنہ وہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے دین کے کام روپیہ سے نہیں ہوا کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اخلاص کا جو نتیجہ پیدا کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں خدا تعالی کے