خطبات محمود (جلد 15) — Page 446
خطبات محمود به سوم سوم سال ۱۹۳۴ء فضل سے جو نتائج حاصل ہو رہے ہیں ان کے مقابلہ میں ہمارے روپیہ کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔اس کی نسبت دشمن بہت زیادہ روپیہ خرچ کر رہا ہے باوجود اس کے ہم روز بروز بڑھ رہے ہیں اور دشمن گھٹ رہے ہیں۔یہ روپیہ سے نہیں ہو رہا بلکہ جس اخلاص سے ہماری جماعت کے مخلص روپیہ دیتے ہیں اس کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔پس میں نے ایسے مخلصین کو ان تحریکات میں شمولیت سے محروم نہیں رکھنا چاہا۔پھر میں نے کچھ ایسے لوگوں کیلئے پردہ پیدا کیا ہے جو زیادہ حصہ لے سکتے ہیں مگر ممکن ہے زیادہ رقم میں حصہ نہ لیں بوجہ اپنے بخل کے اور جو آج کم مجل دور کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ گل خدا تعالیٰ اسے اور زیادہ مخجل دور کرنے کی توفیق دے دے ایسے لوگ بھی ان تحریکوں میں شامل ہو جائیں اور اس طرح جماعت کا ایک حصہ ایمانی تباہی سے بچ جائے گا۔۔کھانے وغیرہ کے متعلق گذشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے جو کچھ کہا تھا کئی دوستوں نے اس کے متعلق سوالات کئے ہیں۔بعض کا جواب تو میں نے خطبہ پر نظر ثانی کرتے وقت دے دیا ہے۔مگر ایک سوال ایسا ہے جس کے متعلق اب کچھ کہنا چاہتا ہوں۔کہا گیا ہے کہ بعض گھرانوں میں نوکروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، بعض لوگ غرباء اور بتائی کو اپنے ہاں رکھ لیتے ہیں تا کہ وہ تھوڑا بہت کام کردیا کریں اور تعلیم حاصل کرتے رہیں، بعض کے ہاں یوں بھی ملازمین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اگر وہی کھانا جو وہ خود کھائیں ملازمین کو بھی دیں تو ان کا خرچ گھنٹے گا نہیں بلکہ بڑھ جائے گا۔حدیثوں میں غلاموں کے متعلق تو آتا ہے کہ جو کھانا خود کھاؤ“ وہی ان کو بھی کھلاؤ سے لیکن غلام اور ملازم میں فرق ہے۔غلام مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے آقا کے ہاں ہی رہیں لیکن ملازم مجبور نہیں ہوتے۔وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کھانا اچھا نہیں ملتا دوسری جگہ جاسکتے ہیں اس لئے جو لوگ ان کو اپنے جیسا کھانا نہیں دے سکتے وہ شرعی طور پر مجبور نہیں۔اور اگر وہ ملازمین والا کھانا خود نہ کھانا چاہیں تو ان کیلئے الگ پکواسکتے ہیں لیکن اگر اس کھانے میں سے کھانا چاہیں جو ملازموں کیلئے پکایا جائے تو پھر اپنا کھانا ملازمین کو دے دیں۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ہے چونکہ میرے مد نظر ہے اسلئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ملازموں کو بھی وہی کھانا کھلاؤ جو خود کھاؤ۔وہ لوگ جنہوں نے کئی ملازم رکھے ہوئے ہوں یا پرورش کے طور پر کچھ لوگوں کو رکھا ہوا ہو، ان کی مشکلات کو مد نظر رکھتا ہوا میں یہ نہیں کہتا کہ ان کے ہاں ایک ہی کھانا پکے جبکہ شریعت میں اس کیلئے کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ