خطبات محمود (جلد 15) — Page 36
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء نہیں۔ کسی عالم سے پوچھ لو۔ تو جو بات نہ آتی ہو اس کا کسی سے پوچھ لینا کوئی ہتک کی بات نہیں۔ اگر پہلی بار درس دینے پر نصف قرآن ہی سمجھ میں آئے تو دوسرے درس تک بہت سے مزید مقام حل ہو جائیں گے۔ اور اس طرح کسی دن سارا قرآن حل ہو جائے گا۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کی دو تین آیات مجھے سمجھ نہیں آئیں۔ مگر میرے لئے اللہ تعالیٰ نے وہ بھی حل کردی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ کو قرآن کی پانچ آیات سمجھ نہیں آئی تھیں مگر حضرت خلیفہ المسیح الاول کو اللہ تعالیٰ نے وہ بھی سمجھا دیں۔ اور آپ پر جو حل نہ ہوئی تھیں، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وہ بھی کھول دیں۔ ہر آیت کے سینکڑوں مطالب ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ مطلب جو آئندہ زمانہ کیلئے ہے، وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تو کوئی حرج نہیں۔ آئندہ زمانہ میں ہونے والے اعتراضات کا بھی تو ہم کو جواب نہیں دینا پڑتا۔ صرف وہ مطالب بھی اگر سمجھ میں آجائیں جو اس زمانہ کے متعلق ہیں تو کافی ہے۔ اگر کل کوئی اور ضرورت ہوگی تو خدا تعالٰی نئے مطالب بھی کھول دے گا۔ یہ چیز کسی خاص انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام، حضرت خلیفہ اول میری یا علمائے جماعت کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ ہر شخص جو اخلاص، عشق اور محبت سے توجہ کرے وہ ایک نیا نور پائے گا۔ بعض اوقات بعض عورتیں اور وہ لوگ جو بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں، ایسی لطیف بات بیان کر دیتے ہیں اور وہ ایسے معنی بیان کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ غرض قرآن شریف دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے ولوں کو کھولو اور اس کی طرف توجہ کرو۔ جب تک دل نہ کھلے گا اُس وقت تک یہ نور نہیں مل سکتا۔ ساری برکتیں اسی میں ہیں اس لئے اس کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لئے بھی درس کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے کیونکہ ان کے سامنے لوگ نئے نئے اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرے دوستوں کیلئے بھی مساجد اور محلوں میں درس کا انتظام ہونا چاہیے۔ علیحدہ طور پر پڑھنے میں یہ نقص ہے کہ بعض لوگوں میں استقلال نہیں ہوتا اور وہ باقاعدہ نہیں پڑھ سکتے۔ درس سے وہ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کی معلومات اور اعتراضات سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔ اگر درس کے اختتام پر درس دینے والا یہ کہہ دے کہ اس کے متعلق اگر کسی کو کوئی اور نکتہ سوجھا ہو تو بتادے تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور قرآن کریم سیکھنے کا یہ بہت آسان ذریعہ ہے۔ تعجب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس قدر تاکید