خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 35

سال خطبات اسکتا۔۳۵ اور قرآن کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے یا منطق پڑھنے میں عمر صرف کر دیتے ہیں اور قرآن کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے کہ انہیں معلوم ہو کہ دنیا کے تمام علوم اس کے سامنے شرمندہ ہیں۔قرآن جاننے والا دنیا کی کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔جو قرآن جانتا ہو وہ دنیا کے سارے علوم جان لیتا ہے۔مگر دنیا کے سارے علوم جاننے والا قرآن نہیں جان یہ بند کتاب ہے، مخفی خزانہ ہے، جس تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہو سکتی۔صرف مطہر لوگ ہی اسے پاسکتے ہیں اور جب تک عشق الہی دل کے اندر نہ پیدا ہو، اس کے مضامین نہیں کھل سکتے۔پس میں لاہور کی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو۔بھی میں یہاں علماء کو بھیج کر درس جاری کراتا رہا ہوں مگر پھر یہ سلسلہ بند ہو جاتا ہے حالانکہ درس دینا صرف علماء کا ہی حصہ نہیں بلکہ اور دوست بھی دے سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے جب مجھے قرآن شریف کا ترجمہ اور بخاری پڑھائی تو فرمایا بس مجھے جو آتا تھا وہ میں نے آپ کو پڑھا دیا۔اور میں تو سمجھتا ہوں بخاری کی بھی ضرورت نہ تھی۔بخاری اور دیگر احادیث کی کتب تو پڑھی جاتی ہیں رسول کریم ﷺ کے کلام سے قرآن شریف کی تشریح معلوم کرنے کیلئے وگرنہ قرآن شریف کامل کتاب ہے۔بیشک رسول کریم اللہ سب سے زیادہ قرآن جانتے تھے مگر احادیث کے متعلق یہ بھی تو شبہ ہے کہ ممکن ہے وہ کلام آپ کا نہ ہو اور کسی اور نے خود ہی بات گھڑ لی ہو۔یہ بھی ہم قرآن کی روشنی سے ہی معلوم کر سکتے ہیں کہ کونسی حدیث درست ہے۔اور حدیث بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی قیمت قرآن کریم کی تفسیر ہونے کی وجہ سے ہی ہے۔ہم ان سے نور حاصل کرتے ہیں مگر وہ نور قرآن سے ہی لیا گیا ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ فوراً درس جاری کردیں اور ہر محلہ میں اس کا انتظام ہو خواہ کوئی ترجمہ ہی جانتا ہو۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے مدد لیکر درس جاری کردے۔اور جو سمجھ میں نہ آئے وہ کسی عالم سے پوچھ لے۔یا جب قادیان آنے کا موقع ملے یا میں یہاں آؤں تو مجھ سے دریافت کرلے۔اس میں کوئی ہتک کی بات نہیں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے وہ کسی سے پوچھ لی جائے۔مجھے فقہ سے دلچسپی نہیں۔اگرچہ مجھے اللہ تعالی کے فضل سے ایسا نور اور ایسی فراست حاصل ہے کہ بڑے بڑے امور کو میں خود حل کرلیتا ہوں لیکن بعض اوقات کوئی فقہی مسئلہ مجھ سے پوچھے تو کہہ دیتا ہوں کہ مجھے یاد