خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 274

۲۷۴ سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود روبه اپنے اندر بیداری اور تقویٰ پیدا کرو۔ہم دنیوی باتوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔دوست، علم، حجتہ کوئی چیز ہمیں کامیاب نہیں کر سکتی۔دنیا میں ہم سے بہت زیادہ یہ چیزیں رکھنے والے موجود ہیں۔ہم تو ایسی صورت میں ترقی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے حکم سے فرشتے ہمارے آگے آگے کہتے جائیں کہ ان کے لئے راستہ چھوڑ دو راستہ چھوڑ دو۔پس تم اپنے نفوس میں تقوی، خوف الہی اور بیداری پیدا کرو۔تم میں سے کتنے ہیں جو تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کر لو تو خود بخود ہی سب کام ہوتے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کسی سفر پر جانے لگا تو اس نے اپنا کچھ قاضی کے پاس بمد امانت رکھوایا۔عرصہ کے بعد واپس آکر اس نے جب روپیہ مانگا تو قاضی کی نیت بدل گئی اور اس نے کہا میاں عقل کی دوا کرو کونسا روپیہ اور کیسی امانت۔میرے پاس تم نے کب روپیہ رکھوایا تھا۔اس نے کوئی تحریر وغیرہ تو لی نہیں تھی کیونکہ وہ سمجھتا تھا قاضی صاحب کی ذات ہی کافی ہے۔مگر قاضی صاحب نے کہا کہ اگر کوئی روپیہ رکھے گئے تھے تو لاؤ ثبوت پیش کرو کوئی رسید دکھاؤ کوئی گواہ لاؤ۔اس نے بہت یاد دلایا مگر وہ یہی کہتا گیا کہ تمہارا دماغ پھر گیا ہے۔میں نے کوئی روپیہ نہیں لیا۔آخر اس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی۔بادشاہ نے کہا کہ عدالت کے طور پر تو میں تمہارے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ کوئی تحریر نہیں ، گواہ نہیں، ہاں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم سچے ہو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے فلاں دن ہمارا جلوس نکلے گا اور قاضی بھی اپنی ڈیوڑھی کے آگے موجود رہے گا تم بھی کہیں اس کے پاس کھڑے ہو جانا۔میں تمہارے پاس پہنچ کر تمہارے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت شروع کردوں گا کہ تم ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے اتنے عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی اور تم کہنا کہ یونہی کچھ پریشانیاں ہی تھیں، اس لئے حاضر نہیں ہو سکا۔اس شخص نے ایسا ہی کیا اور جلوس کے دن قاضی صاحب کے پاس ہی کھڑا ہو گیا۔بادشاہ آیا تو بادشاہ نے قاضی کی بجائے اس سے مخاطب ہو کر بات شروع کر دی اور کہا تم کہاں چلے گئے تھے ، عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی اس نے اپنے سفر کا حال بتایا۔پھر بادشاہ نے پوچھا واپسی پر کیوں نہیں ملے۔اس نے جواب دیا کہ یونسی بعض پریشانیاں تھیں، کچھ وصولیاں وغیرہ کرنی تھیں۔بادشاہ نے اسے کہا نہیں میں ضرور ملنا چاہیے، جلدی جلدی آیا کرو۔جب بادشاہ کا جلوس گزر گیا تو قاضی صاحب نے اس سے کہا کہ میاں ذرا بات تو سنو۔تم اس دن آئے تھے اور کسی امانت کا ذکر کرتے تھے۔شخص۔رپر ہو۔