خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 275

خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۴ء میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔عقل اچھی طرح کام نہیں کرتی۔کچھ اتا پتا بتاؤ تو یاد آئے۔اس نے پھر وہی باتیں یاد دلائیں جو پہلے کئی بار یاد دلا چکا تھا۔اس پر قاضی صاحب کہنے لگے۔اچھا فلاں قسم کی تھیلی تمہاری ہی ہے وہ تو پڑی ہے لے جاؤ۔اور لاکر روپیہ اسے دے دیا۔یہ قصہ سنا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی مخالفت سے کیا ڈرنا- کوئی بڑے سے بڑا جرنیل بھی تو تلواروں اور گولیوں وغیرہ سے ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔مگر یہ ساری چیزیں ہمارے خدا کی ہیں۔اگر وہ کہے کہ اس طرف وار نہ کرو تو کون کر سکتا ہے۔پس بندہ کو اللہ تعالی سے دوستی کرنی چاہیے۔اس سے محبت کرنی چاہیئے۔ڈر سے یا مرنے مارنے سے کام نہیں بنتا۔ترقی کی کی راہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دے۔اور جس طرف وہ لے جاتا چاہے چلتا جائے۔الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۴ء) نه بخاری کتاب الجهاد باب السرعة والركض في الفزع ه بخاری كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى : به بخاری کتاب القدر باب جف القلم على علم اللہ میں حدیث کے الفاظ یوں آئے ہیں "جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ" کے بخاری کتاب المغازی باب غزوة أحد