خطبات محمود (جلد 15) — Page 273
خطبات محمود ۲۷۳ ہے۔بہرحال اس وقت بعض حکام بھی اس مخالفت میں کسی نہ کسی طرح فتنہ انگیزوں کو مدد دے رہے ہیں۔مگر اچھی طرح یاد رکھو کہ یہ چیزیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اور ان سے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔کچھ عرصہ کی بات ہے ، یہاں ہمارے مخالفین کی طرف سے کچھ شورش ہوئی۔اس وقت ایک دوست کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہ بھی موقع پر موجود تھے۔وہ صحابی ہیں میں نے انہیں اس لئے بلایا کہ صحیح حالات معلوم کروں مگر وہ بجائے گواہی دینے کے مجھے تسلی دینے لگے کہ آپ پرواہ نہ کریں، یہ باتیں کچھ چیز نہیں ہیں ہم نے اس سے بہت بڑی مخالفتیں دیکھی ہیں۔ایک دفعہ ہم کچھ لوگ مٹی کھود رہے تھے۔اور نانا جان (حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ہمیں یہ کام سپرد کیا تھا کہ اتنے میں کسی نے آکر کہا کہ مرزا نظام الدین صاحب آرہے ہیں۔مرزا نظام الدین صاحب ہمارے چچا تھے۔ان کو اپنے حقوق کا بہت خیال رہتا تھا اور وہ اس بات کو اپنے مالکانہ حقوق کے منافی خیال کرتے تھے کہ دوسرے لوگ کہیں سے مٹی وغیرہ اٹھائیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی عام اجازت دے رکھی تھی۔تو وہ دوست مجھے سنانے لگے کہ جب کسی نے آکر کہا کہ مرزا نظام الدین آگئے تو باقی لوگ تو سب چلے گئے مگر میں وہیں کھڑا رہا اور ہاتھ اٹھا کر میں نے دعا کی۔کہ اے خدا! اس وقت مجھ پر وہی وقت آیا ہے جو تیرے رسول پر غارِ ثور میں آیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا نظام الدین آئے مگر میں انہیں نظر نہ آیا۔گویا اس دوست نے اس نہایت معمولی واقعہ کو غار ثور کے واقعہ کے برابر سمجھا۔اس طرح بعض لوگ معمولی باتوں کو بہت اہمیت دے لیتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔افسروں میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو قانون کو سمجھ نہیں سکتے بعض دیانتداری اور بعض بد دیانتی سے بھی غلطیاں کرتے ہیں مگر ان باتوں کی پرواہ نہ کرو۔ہماری نظر اس گورنمنٹ کی طرف نہیں بلکہ آسمانی گورنمنٹ کی طرف ہے اور ہماری کامیابی کا انحصار تقویٰ پر ہے۔پس اپنے اعمال کی اصلاح کرو اور اپنے دلوں میں تقویٰ پیدا کرو۔ایک دفعہ ایک نظم لکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مصرعہ لکھا تھا۔اس پر دوسرا مصرعہ یہ الہام ہوا۔ہراک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے" " اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے" پس ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے کامیابی کا گریہی رکھا ہے۔کہ تقویٰ سے وابستہ رہیں۔