خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 240

خطبات محمود گھٹ رہا ہوتا ہے اور میں اس کیلئے یہ دعا کرنی شروع کر دیتا ہوں کہ الہی! اس قدم سے یہ کسی ابتلاء میں نہ پڑ جائے کیونکہ میں نے یہ قدم محض اس کی اصلاح کی خاطر اٹھایا ہے اور یہ خداتعالی کا خاص فضل ہے کہ آج تک کسی ایک شخص کا بھی میرے دل میں بغض پیدا نہیں ہوا۔ہاں ان افعال سے بغض ضرور ہوتا ہے جو سلسلہ احمدیہ اور دین اسلام کے خلاف کئے جاتے ہیں۔لیکن افعال سے بغض بغض نہیں کہلاتا بلکہ وہ اصلاح کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ہم چوری کو بیشک بُرا کہتے ہیں لیکن چور سے ہمیں کوئی بغض نہیں ہوتا وہ اگر چوری چھوڑ دے تو ہم ہر وقت اس سے صلح کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔پس اصلاح محبت کے جذبات کے ماتحت کرنی چاہیے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ محض دوسرے کو نقصان پہنچانے کی خواہش میں دوسرے کی شکایت کر دیتے ہیں۔ان کے مد نظر یہ نہیں ہوتا کہ اس کی اصلاح ہو جائے بلکہ ہے کہ کسی طرح اسے نقصان پہنچے۔ایسے لوگ جب میرے پاس کسی کے متعلق شکایت کرتے ہیں اور میں محبت اور پیار سے اسے سمجھاتا ہوں اور وہ سمجھ جاتا ہے تو شکایت کرنے والے کہنے لگ جاتے ہیں بھلا اصلاح کس طرح ہو ہم نے فلاں کی شکایت خلیفۃ اصبح تک بھی پہنچائی مگر انہوں نے کچھ نہ کیا۔گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کی شکایت کی جائے اس کے خلاف ضرور کوئی قدم اُٹھایا جائے حالانکہ یہ اصلاح کا آخری طریق ہے اس سے پہلے ہمیں محبت اور پیار سے دوسروں کو سمجھانا چاہیئے اور اگر وہ سمجھ جائیں تو ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے ایک بھائی کی اصلاح ہو گئی۔ہوتا الفضل (۱۳) - جنوری ۱۹۷۰ء) له بخاری کتاب الاحكام باب من قضي ولا عن في المسجد له بخاری کتاب النکاح باب نظر المرأة الى الجيش (الخ) س التحريم: هم النور: ۱۷ تا ۲۰ اک سیرت ابن هشام الجزء الثانی صفحه ۱۲-۱۳ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ه ، بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ (الخ) الرحمن: ٢٧