خطبات محمود (جلد 15) — Page 241
خطبات محمود ۲۴۱ ۲۷ سال ۱۹۳۴ء احمدی تاجروں کو پوری دیانت سے کاروبار کرنا چاہیئے فرموده ۳۱- اگست ۱۹۳۴ء - بمقام قادیان) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ خطبہ میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ انہیں بچوں اور نوجوانوں کو نماز کا پابند بنانا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری جماعت میں کوئی شخص ایسا نہ ہو جو نمازوں کیلئے مسجد میں نہ آئے۔یہ تو میرے وہم میں بھی نہیں آسکتا کہ کوئی احمدی بے نماز ہو اور اگر کوئی ہوگا تو دو چار سو میں شاید ایک ہو اور وہ بھی نئی پود میں سے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ نماز پڑھتے ہیں لیکن صرف نماز پڑھنا کافی نہیں بلکہ اقامت شرط ہے قرآن کریم میں صرف يُصَلُّونَ نہیں ہے بلکہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ آتا ہے اور اقامتِ صلوة کیلئے باجماعت نماز پڑھنا ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر بچوں کو مساجد میں اپنے ساتھ لایا جائے تو خواہ وہ ایک لفظ بھی نہ سمجھیں اور نماز کی اہمیت کو پوری طرح محسوس کریں پھر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کے اندر سچا اخلاص پیدا ہو جائے گا۔اور انہی بچوں میں سے بزرگ اولیاء پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔گویا اس ذرا سے کام سے وہ ماں باپ جن کی اولادیں آوارہ ہیں وہ آئندہ نسلوں کو ولی اللہ بنا سکتے ہیں۔پھر ایک اور بات جس کی طرف میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کے بعض تاجر دیانت سے کام نہیں لیتے اس لئے ہر محلہ کے دوستوں کو اپنے اپنے محلہ کی دُکانوں کے متعلق خیال رکھنا چاہیے کہ ان سے سودا صحیح طور پر ملے۔چیز خراب نہ ہو