خطبات محمود (جلد 15) — Page 239
خطبات محمود کھا رہا تھا تو بیوی جوتا لے کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی کمبخت تو کھانا تو منہ سے کھاتا ہے تیری ڈاڑھی کیوں ہلتی ہے۔اُس نے ہاتھ جوڑ دیے کہ آج سے میرا تیرا مقابلہ بند ہوا تو جیتی اور میں ہارا۔جس طرح روٹی پکاتے ہوئے کہنی ہلے گی اور کھانا کھاتے ہوئے ڈاڑھی ہلے گی اسی طرح جب کوئی شخص لوگوں کی اصلاح کرنا چاہے گا تو اسے بعض لوگوں کو سزا بھی دینی پڑے گی۔پس اصلاح کے بتائے ہوئے طریقوں پر آپ لوگ کام کریں۔ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ جب وہ کسی کا عیب دیکھے اسے خود دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر دیکھے کہ اس کی اصلاح ہو گئی ہے تو وہ خاموش ہو جائے اور اس عیب کا کسی دوسرے کے پاس ذکر تک نہ کرے۔اور اگر وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اصلاح نہیں کر سکتا تو محلہ کے پریذیڈنٹ وغیرہ کے پاس پہنچے اور اگر دیکھے کہ وہ بھی توجہ نہیں کرتے تو پھر جو ان پر عہدیدار مقرر ہیں انہیں توجہ دلائے۔مثلاً لڑائی جھگڑوں کے معاملات نظارت امور عامہ میں پیش کرنے چاہئیں اور اصلاح یا محبت باہمی وغیرہ کیلئے اصلاح وارشاد کے محکمہ میں جانا چاہیے لیکن ان کے علاوہ اور کسی کے پاس دوسرے کا عیب بیان نہیں کرنا چاہیئے اور اگر کوئی کرے گا تو وہ فتنہ کا مرتکب سمجھا جائے گا۔یہ طریق ہے جو اصلاح کا ہے اگر آپ لوگ اس کو چلانے میں مدد دیں گے تو دیکھیں گے کہ لڑائیاں جھگڑے اور رفتن کس طرح دور ہو جاتے ہیں۔ہر چیز ہمیشہ اپنے ماحول میں پنپتی ہے ایک باغی تبھی پنپ سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد بغاوت کی باتیں سنتا ہے اگر بغاوت کی باتوں پر سرزنش کی جائے تو باغی پیدا ہونے بھی بند ہو جائیں گے۔اسی طرح لڑائی جھگڑے بھی تبھی پیدا ہوتے ہیں جب انسان لڑائی جھگڑوں کی باتیں سنتا ہے اگر باتیں ہوئی بند ہو جائیں تو لڑائی جھگڑے بھی نہیں ہوں گے اور اس دنیا میں آپ لوگوں کو جنت مل جائے گی۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کیلئے اللہ تعالیٰ نے دو جنتوں کا وعدہ کیا ہوا ہے ہے۔جسے اس جہان میں جنت ملی اسی کو اگلے جہان میں جنت ملے گی مگر آپ لوگ روزانہ اس دنیا میں جنم دیکھتے ہیں اور پھر بھی جنت کی امید رکھتے ہیں۔جنت کی تعریف خدا تعالیٰ نے یہ کی ہے کہ وہاں دل میں کسی کے متعلق کوئی بغض اور کینہ نہیں ہو گا۔پس ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو دوسروں کے بغض اور کینہ سے پاک کر دیں تاکہ اس دنیا میں ہمیں جنت حاصل ہو۔میں بعض دفعہ کسی کی اصلاح کی غرض سے کوئی قدم اُٹھاتا ہوں تو ساتھ ہی میرا دل بھی