خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 232

خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۴ء تمین وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔فرض کرو اس مجلس میں میں کہوں کہ پانی لاؤ تو بالکل ممکن ہے دو سو آدمی اُٹھ کر چلے جائیں۔اسی خیال کے ماتحت کہ ان میں سے ہر ایک اس آواز کے مطابق عمل کرے اور بالکل ممکن ہے کہ ایک بھی نہ جائے اس خیال کے ماتحت کہ ممکن ہے کوئی اور چلا گیا ہو تو ہنگامی کام ہمیشہ ناقص رہتے ہیں۔جس چیز کے ساتھ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے وہ تنظیم اور اصلاح ہے اور اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ سلسلہ کا ہر فرد اور ہر ذرہ ہماری نظروں کے سامنے ہو۔جب کسی تنظیم میں یہ نقص رہ جائے کہ اس کے افراد نگاہوں کے سامنے نہ آئیں تو وہ تنظیم بگڑ جاتی ہے اسی وجہ سے ہم نے مرکز کا کام مختلف حلقوں میں تقسیم کیا ہوا ہے اور مختلف حلقوں کی الگ الگ مساجد ہیں تاکہ تمام عہدیدار اپنے اپنے حلقہ کے ہر فرد سے واقف ہوں اور ان کی صحیح رنگ میں تربیت کر سکیں۔کہ رحقیقت مساجد ہی ایک ایسی جگہ ہیں جہاں ہمارے تمام کام ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریریں بھی مسجد میں ہوتی تھیں، جلسے بھی مسجد میں ہوتے تھے ، مشورے بھی مسجد میں ہوتے تھے۔اور تاریخ اسلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نکاح بھی مساجد میں ہوتے تھے، جھگڑوں کا تصفیہ بھی مسجد میں ہوتا تھا اے ، نمازیں بھی مسجد میں ہوتی تھیں، جہاد کے مشورے بھی مسجد میں ہوتے اور جب مومن کا ہر کام اس کی عبادت سمجھا جاتا ہے اور جب اسلام نے یہ تعلیم دی ہے۔خدا تعالیٰ کیلئے اگر کوئی روٹی بھی کھاتا ہے تو وہ نیکی کرتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ نمازوں کے علاوہ ہمارے باقی کام جو مساجد سے تعلق رکھیں وہ عبادت میں شامل نہ ہوں۔اس صورت میں جھگڑوں کے موقع پر فیصلے کرنا جہاد کیلئے مشورے کرنا اور لڑائیوں کیلئے پریکٹس کرنا محض قضاء یا مشورہ یا جنگ کی پریکٹس کرنا نہیں کہلائے گا بلکہ یہ کام بھی عبادت میں شمار ہوں گے۔احادیث میں صاف طور پر ذکر ہے کہ رسول کریم ان کے زمانہ میں ایک دفعہ مسجد نبوی میں فوجی کرتب دکھلائے گئے۔رسول کریم ال نے حضرت عائشہ کو بلایا اور فرمایا کہ کیا رتب دیکھنا چاہتی ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! دیکھنا چاہتی ہوں۔تب آپ نے فرمایا میری پیٹھ کے پیچھے ہو جاؤ اور کندھے کی اوٹ میں جنگی کرتب دیکھتی جاؤ ہے۔- غرض اسلام کے نزدیک مساجد منبع ہیں تمام کاموں کا اور سرچشمہ ہیں مسلمانوں کی تمام جدوجہد کا۔اور حلقہ وار انجمنوں کا قیام اسی غرض کیلئے کیا گیا ہے کہ کارکن اپنے فرائض کو