خطبات محمود (جلد 15) — Page 233
خطبات محمود ۲۳۳ سال ۱۹۳۴ء سمجھیں اور ان مقاصد کو اپنے سامنے رکھیں جن کیلئے یہ تقسیم عمل میں لائی گئی ہے۔عہدہ داروں کو چاہیے کہ وہ اپنے حلقہ کے تمام افراد کو اپنے زیر نظر رکھیں اور ہر شخص کی شکل اور اس کے نام سے ذاتی واقفیت پیدا کریں اور جو لڑکے دس سال سے اوپر کے ہوں ان کیلئے یہ لازمی قرار دیں کہ وہ مسجد میں نماز پڑھیں۔قرآن کریم نے ہر فرد کو اپنی اولاد کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔وہ فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ہے۔اے لوگو! تمہیں حکم دیا جاتا صرف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی بچاؤ پس ہے کہ نه نص اپنی بیوی اور بچوں کا ذمہ وار ہے۔اس سے صرف یہی نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نماز پڑھتے تھے یا نہیں، صرف یہی نہیں پوچھا جائے گا کہ تم زکوٰۃ دیتے تھے یا نہیں، تم روزے رکھتے تھے یا نہیں، تم حج کرتے تھے یا نہیں بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تمہارے بیوی بچے بھی زکوۃ دیتے روزے رکھتے تھے اور حج کرتے تھے یا نہیں؟ اور اگر کسی کے متعلق یہ ثابت ہوا کہ اس نے اپنی بیوی اور بچوں کے متعلق اس امر میں غفلت اور کو تاہی کا ثبوت دیا ہے تو وہ اس سزا کا مستحق ہوگا جو نماز چھوڑنے والے روزہ نہ رکھنے والے زکوۃ نہ دینے والے، حج کرنے والے کیلئے مقرر ہے۔پس ہر فرد اس امر کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنی اولاد کو مسجدوں۔میں حاضر کرے۔بچوں کو مساجد میں لانا احادیث سے اس قدر تواتر سے ثابت ہے کہ کوئی اندھا ہی اس سے انکار کر سکتا ہے۔حدیثوں میں صاف طور پر آتا ہے کہ پہلے مرد کھڑے ہوں پھر عورتیں اور پھر بچے ہے۔اگر بچوں کا نمازوں میں شامل ہونا ضروری نہیں تھا تو ان کا ذکر کیوں کیا گیا۔پس کوئی وجہ نہیں کہ بچوں کو مسجدوں میں نہ لایا جائے مگر بچوں سے مراد وہ بچے نہیں جو بالکل چھوٹے ہوں اور مسجدوں میں آکر رونا چیخنا شروع کردیں۔یا وہ بچے بھی مراد نہیں کہ بیوی آٹا گوندھنے لگے تو وہ اپنے میاں سے کہہ دے کہ ذرا اس بچے کو نماز میں لیتے جانا۔میں نے ایک دفعہ دوستوں کو تحریک کی کہ بچوں کو مساجد میں لانا چاہیے تو اس کے بعد میں نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنے بالکل چھوٹے بچوں کو لانا شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بعض دفعہ کوئی بچہ مسجد میں پاخانہ پھر دیتا، کوئی پیشاب کر دیتا اور وہ اس قدر شور مچاتے کہ دوسروں کیلئے نماز پڑھنا مشکل ہو جاتا۔تب میں نے سختی سے روکا کہ مسجدیں بچے کھلانے کی جگہ نہیں ان کو اپنے گھروں میں رکھو۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کو مسجدوں میں لاؤ تو میری مراد یہ