خطبات محمود (جلد 15) — Page 231
خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۴ء راحت ہے۔یہ ساری چیزیں جھوٹی بے اثر اور غیر مفید ہیں۔جو چیز دُنیا کی نجات کا موجب بن سکتی ہے اور جس چیز کے ذریعہ کامیابی اور حقیقی راحت حاصل ہو سکتی ہے وہ وہی ہے جسے اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جو وسطی راستہ ہے۔نہ وہ انشورنس کمپنیوں اور ناجائز دولت جمع کرنے کے سامانوں کی طرف جاتا ہے اور نہ وہ مارکس ازم کے ذریعہ تمام افراد کی منفردانہ کوششوں کو توڑ کر جبری طور پر انسانوں میں مساوات قائم کرتا ہے اس لئے امن اُسی ذریعہ سے حاصل ہو سکتا ہے جسے اسلام پیش کرتا ہے مگر اس کیلئے بھی کسی جدوجہد اور کوشش اور قربانی کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ میں بیشک سب طاقتیں اور قدرتیں ہیں مگر وہ اپنی طاقتوں اور قدرتوں کو بعض حالات کے ماتحت ظاہر کیا کرتا ہے۔اس میں طاقت ہے کہ وہ بچے کو ایک سیکنڈ میں پیدا کر دے مگر وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ نو ماہ کے بعد بچے کو پیدا کرتا ہے۔اسی طرح اس میں طاقت ہے کہ وہ غلہ کو ایک سیکنڈ میں اُگا دے مگر وہ کوئی غلہ پانچ ماہ میں اور کوئی چھ مہینہ ہے۔پھر اس میں طاقت ہے کہ وہ پھلوں کو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں پیدا کر دے مگر وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ کسی پھل کو دس سال بعد اور کسی کو بارہ سال بعد پیدا کرتا میں اگات ہے۔یہ سب حکمت کی باتیں ہیں اور مختلف قسم کے اسرار اپنے اندر رکھتی ہیں۔جو شخص قدرت کے کاموں پر غور کرتا ہے وہ ان سے واقف ہو جاتا ہے اور جو شخص آنکھیں بند کرلیتا ہے وہ اعتراض کرنے لگ جاتا ہے اور اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ ٹھوکریں کھانے والا اعتراض ہی کرے گا۔انگریزی میں مثل ہے کہ اگر کوئی پیشہ ور اچھا نہ ہو تو وہ ہتھیاروں کے متعلق یہ شکایت ہی کرتا رہتا ہے کہ وہ خراب ہیں، کبھی کہہ دے گا کہ تیشہ ناقص ہے، کبھی کہہ دے گا فلاں اوزار تیز نہیں اور بجائے اپنا نقص دیکھنے کے ہتھیاروں پر اعتراض کرتا اور آلات کے متعلق عیب چینی کرتا رہے گا لیکن اس طرح کامیابی نہیں ہو سکتی۔اعتراضات کا طومار بھی اگر کھڑا کر دیا جائے تو وہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔کامیابی ہمیشہ تبھی ہوتی ہے جب صحیح طریق اختیار کیا جائے اور صحیح ذرائع کا استعمال کیا جائے۔پس جس مقصد اور کام کیلئے اللہ تعالٰی نے ہماری جماعت کو کھڑا کیا ہے یعنی اسلام کی وہ پُر امن اور پر نفع تعلیم جس کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اسے پھر دنیا میں رائج کرنا۔اس تعلیم کے اصول اگرچہ قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن انہیں پر حکمت طور پر عمل میں لانا یہ ہمارا کام ہے۔اگر ہنگامی طور پر کام کیا جائے تو