خطبات محمود (جلد 15) — Page 204
خطبات محمود ۲۰۴ سال ۱۹۳۴ء غرض انگریزی گورنمنٹ کے ماتحت چونکہ خدا تعالی نے ہمیں رکھا ہے اس لئے ہماری جماعت کیلئے یہاں اس قسم کی جانی قربانی کے مواقع نہیں اور نہ بظاہر اس قسم کے مواقع میسر آسکتے ہیں جیسا کہ افغانستان میں پیش آئے۔ مگر پھر بھی چونکہ انگریز افسروں کے ماتحت دیسی افسر بھی ہوتے ہیں اس لئے بعض دفعہ دیسی افسروں کی شرارت کی وجہ سے احمدیوں کو دکھ پہنچ جاتا ہے۔ بعض جگہ ماتحت افسر جھوٹ بول دیتا ہے اور اس طرح انگریز افسر کو ایک احمدی کے خلاف کارروائی کرنی پڑتی ہے مگر اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ نوے فیصدی انگریز عدل پر قائم رہتے ہیں۔ باقی دس فیصدی بعض دفعہ کسی ڈر سے، بعض دفعہ کسی لحاظ سے اور بعض دفعہ کثرت کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی وجہ سے ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں جنہیں ظلم کہا جاسکتا ہے۔ اور یہ مواقع جانی قربانی کے ہماری جماعت کو ہندوستان میں پیش آتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی بعض احمدی مارے پیٹے گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض مر گئے بعض اپانچ ہو گئے ، بعضوں کی بیویاں ان سے چھین لی گئیں، بعضوں کے بچے ان سے مجدا کر دیئے گئے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس جانی نقصان میں اکثر نے ثابت قدمی دکھائی۔ مگر ایک نقص ہے جس کی طرف میں توجہ دلائے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ بعض لوگ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ ہماری حفاظت کا انحصار انگریزوں پر ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم انگریزوں کی جو تعریف کرتے ہیں، وہ محض ان کے عدل کی وجہ سے، ورنہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ مصیبت کے وقت انگریزی گورنمنٹ اسے بچاسکے گی، وہ مومن نہیں کیونکہ مومن کبھی غیر اللہ کی طرف توجہ نہیں کرتا خواہ اس پر کس قدر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں۔ جب تک ہمارے اندر یہ روح پیدا نہ ہوگی کہ ایک حد تک انسانی کوشش کے بعد ہم خدا تعالی پر اپنا معاملہ چھوڑ دیں اور اسی پر توکل کریں، اس وقت تک کامل ایمان حاصل نہیں ہو سکتا۔ مگر میں اپنی جماعت کے بعض لوگوں کو دیکھتا ہوں، انہیں جب کوئی تکلیف پہنچے فوراً لکھتے ہیں کہ گورنر کو اطلاع دی جائے، وزراء کو لکھا جائے، افسران سے ملاقات کی جائے۔ وہ اپنے خطوں میں اس قسم کی گھبراہٹ ظاہر کرتے ہیں جو بزدلوں اور منافقوں کی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ میں بارہا اپنی جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں کہ اس قسم کی حرکات مؤمنانہ شیوہ نہیں۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ کیوں یہ آواز ہماری جماعت تک نہیں پہنچتی۔ ممکن ہے اس کا باعث یہ ہو کہ ہمارے اخبار کی خریداری بہت کم ہے۔ اور جماعت کے حلقہ میں اسے بہت کم وسعت حاصل ہے۔ :