خطبات محمود (جلد 15) — Page 203
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ایک نہیں، دو نہیں، متواتر پانچ آدمیوں سے پوچھا گیا مگر ان میں سے ہر ایک نے بشاشت سے اپنی جان دے دی۔اور کو جانیں دینے والے افغانستان کے تھے اور جانیں لینے والے بھی مگر نہیں کہا جاسکتا کہ سارا ایمان اور اخلاص افغانستان میں ہی منتقل ہو گیا ہے اور وہیں اس اس قسم کے نمونے پائے جاسکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ ہندوستان کے احمدیوں سے بھی اگر اس رنگ کا مطالبہ کیا جاتا تو وہ بھی لبیک کہہ کر آگے آتے اور کبھی بھی اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں فدا کرنے سے دریغ نہ کرتے۔مگر ہندوستان والوں کیلئے اس قسم کی قربانی کا موقع نہیں آیا۔یہاں خدا تعالیٰ نے ایک ایسی گورنمنٹ قائم کی ہوئی ہے جو باوجود کئی کمزوریوں کے (اور دراصل ہر گورنمنٹ میں باوجود اس کی بے شمار خوبیوں کے کچھ نہ کچھ کمزوریاں بھی ہوا کرتی ہیں) قانون کی پابندی نہایت شدت سے کرتی ہے۔اس کی ایک تین مثال یہ ہے کہ گاندھی جی انگریزی گورنمنٹ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔گو وہ کہتے ہیں کہ میں انگریزوں کا دوست ہوں۔اگر دشمنی ہے تو حکومت سے ہے۔انہی گاندھی جی پر جب حملے ہوتے ہیں تو گورنمنٹ یہ نہیں کہتی اچھا ہوا ایک دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے بلکہ وہ کہتی ہے ہمارا فرض ہے کہ چاہے دوست ہو یا دشمن، کسی کے متعلق پبلک کو قانون شکنی نہ کرنے دیں گے اور گاندھی جی کے مخالفین کو ایذاء رسانی سے روکتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ انگریزوں میں بھی بعض کمزور ہوتے ہیں۔خصوصاً کشمیر کی تحریک کے دوران میں میرا تجربہ ہے کہ وہاں قانون شکنی بعض دفعہ خود انگریز افسروں نے کرائی مگر اس قسم کے لوگ بہت قلیل ہیں۔انگریزوں کا ہزارہا آدمی ہندوستان میں کام کر رہا ہے اور سینکڑوں انگریز ہر سال ریٹائر بھی ہو جاتے ہیں اس کے متعلق تو نہیں کہا جاسکتا لیکن اگر اندازہ لگایا جائے تو جن انگریزوں سے مجھے یا جماعت کے دوسرے دوستوں کا واسطہ پڑا ہے جنہوں نے مجھے حالات بتائے، ان کو دیکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ انگریزوں میں سے نوے فیصدی ایسے ہیں جو قانون کا احترام کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ قوم دشمنوں کی دشمنی کے باوجود اب تک کمزور ہونے میں نہیں آئی۔بعض اندرونی حالات کے لحاظ سے گورنمنٹ کا تجزیہ ضرور ہو گیا ہے۔اور ہندوستان ساؤتھ افریقہ نیوزی لینڈ اور کینیڈا وغیرہ کو جو اختیارات مل گئے ہیں ان سے اس میں ایک قسم کا ضعف پیدا ہو گیا ہے۔مگر یہ خیال کہ انگریز عدل کرتے اور قانون کی پابندی کو ملحوظ رکھتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں پوری شدت سے قائم ہے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہیں آئی۔لئے