خطبات محمود (جلد 15) — Page 155
خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۴ء ہے کون واقعہ میں خوبصورت ہے اور کون محض اوپر سے خوبصورت نظر آرہا ہے۔ اسی گفتگو میں حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ۔ کیا آپ کے نزدیک یہاں کوئی مرد خوبصورت بھی ہے؟ انہوں نے ایک نوجوان کا نام لیا جو اتفاقاً اُس وقت سامنے آگیا تھا۔ کہنے لگے میرے خیال میں یہ خوبصورت ہے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا آپ کی نگاہ میں تو یہ خوبصورت ہے مگر دراصل اس کی ہڈیوں میں نقص ہے۔ پھر آپ نے اسے قریب بلایا اور فرمایا۔ میاں ذرا تحمیص تو اُٹھانا۔ اس نے قمیص جو اُٹھائی تو ٹیڑھی ہڈیوں کی ایسی بھیانک شکل نظر آئی کہ مولوی عبدالکریم صاحب کہنے لگے لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ اس کے جسم کی بناوٹ میں یہ نقص ہے میں اس کا چہرہ دیکھ کر ہی اسے خوبصورت سمجھتا تھا۔ تو دراصل جسم میں بہت نقائص ہوتے ہیں۔ کئی لوگوں کے بدن پر گھمبیر ہوتے ہیں، کئی کی ہڈیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں، بعضوں کے سینوں میں اتنا اتنا گڑھا ہوتا ہے کہ اس میں پاؤ بھرے بھر گوشت سما جائے اور جب کبھی وہ لوگوں کے سامنے کپڑے اُتار کر نہانے لگیں یا کسی اور موقع پر انہیں قمیص اُتارنی پڑے تو لوگوں پر ان کا عیب ظاہر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے لباس کو اتارا ہے اور اس کی یہ غرض مقرر کی ہے کہ یہ تمہارے عیبوں کو چھپاتا ہے۔ وَرِيشًا۔ پھر بعض جگہ یہ صرف عیب ہی نہیں چھپاتا بلکہ حسن کو چمکا دیتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جو نمایاں نظر آنے والی ہے۔ چنانچہ لباس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اور مختلف جسمانی رنگوں پر مختلف قسم کے لباس سجا کرتے ہیں، بعض رنگ بعض کے ساتھ کھلتے ہیں اور بعض بعض کے ساتھ۔ سروں ہی کی مختلف بناوٹ ہوتی ہے، کسی کے سر پر ٹوپی سجتی ہے اور کسی کے سر پر پگڑی اور پھر کسی کو سفید پگڑی اچھی لگتی ہے کسی کو سرخ اور کسی کو سبز- مرد تو ان باتوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے کیونکہ انہیں فرائض منصبی کی طرف زیادہ توجہ رہتی ہے۔ عورتوں نے اس فن میں بہت کمال پیدا کر رکھا ہے۔ بسنت کا موسم آئے تو کہتی ہیں اب ہمیں بنتی رنگ کا دوپٹہ چاہیے، کوئی اور موسم آئے تو کہتی ہیں اب سرخ اچھا لگے گا، کسی موسم میں سبز رنگ کو ترجیح دے دیتی ہیں اور اس طرح وہ اس امر کی تصدیق کرتی رہتی ہیں کہ لباس کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ زینت کا موجب بنتا ہے۔ یورپ والے تو ہمارے ملک سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ وہاں لباس انسانی جسم کے رنگوں کے مطابق تجویز کیا جاتا ہے اور کپڑے والی دکانوں کے مالکوں نے بڑے بڑے ماہر فن اس