خطبات محمود (جلد 15) — Page 154
خطبات محمود ۱۵۴ سال ۱۹۳۴ء کو پردہ پڑا ہوا ہے اور وہ بالوں کا ہے۔بال منڈا کر دیکھ لو سو میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسے پسند کریں گے۔نہایت ہی گھن آنے والی چیزوں کے متعلق جب میں اندازہ لگایا کرتا ہوں تو سب سے زیادہ رکھن مجھے منڈے ہوئے سر سے آتی ہے خصوصاً جب اس پر گھی ملا ہوا ہو۔اگر کھانا کھاتے وقت میں اس کا خیال کروں تو شاید مجھے تے ہی آجائے۔اس عمر میں آکر بعض دواؤں کی خاطر مجھے مکھن کھانا پڑا ہے، پہلے میں کبھی نہیں کھایا کرتا تھا لیکن اب بھی باوجود اس کے کہ کسی حد تک مجھے مکھن کھانے کی عادت ہو گئی ہے اگر کوئی میرے سامنے لکھن کے مکھنی کہہ دے تو میں اسے کھا نہیں سکتا۔کیونکہ بچپن میں میں نے سنا ہوا تھا ٹنڈ میری مکھنی - مالیر کوٹلہ جہاں میری ہمشیرہ نواب محمد علی خان صاحب سے بیاہی ہوئی ہیں لوگ مکھن کو مکھنی کہتے ہیں۔جب میں وہاں جاؤں اور نوکر اگر کہہ دے کہ مکھنی لاؤں تو کہتا ہوں بس اب میں کھا چکا۔آج کل کے نوجوانوں نے تو یہ شغل ہی بنا رکھا ہے کہ وہ اپنے بالوں میں مانگیں نکال کر کبھی دائیں، سر کو حرکت دیتے ہیں اور کبھی بائیں اور خیال کرتے ہیں کہ سارے جہان کا حسن سمٹ سمٹا کر ان کے بالوں میں آگیا ہے۔ان کے سامنے بھی اگر کسی کا سر منڈا کر اس پر گھی مل دیا جائے تو وہ بھی یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہیں گے کہ عریانی کیسی بد شکل پیدا ہو جاتی ہے۔یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے جو میری طبیعت کے میں لحاظ سے سخت گھن پیدا کرنے والی ہے ورنہ اور بھی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔غرض جسم کے ایسے حصے ننگے رکھنا خوبصورتی نہیں بلکہ عیب پیدا کرتا ہے۔اور اپنے اپنے مذاق کے مطابق انہیں ڈھانپنا خوش نمائی پیدا کرتا ہے۔پس اللہ تعالی فرماتا ہے کہ لباس کا ایک کام تو یہ ہے کہ يُوَارِی سَواتِكُمْ۔جسم کے اندر جو بعض عیب ہیں، لباس انہیں ڈھانپ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے درمیان آپس میں اسی بات پر بحث چھڑ گئی۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ خوبصورتی کا پہچاننا آسان نہیں ہر شخص کی نگاہ حُسن کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتی یہ صرف طبیب ہی پہچان سکتا ہے کہ کون خوبصورت ہے اور کون بدصورت۔مگر مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے تھے کہ یہ کون سی مشکل بات ہے ہر آنکھ انسانی خوبصورتی کو پہچان سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ بے شک ہر نگاہ حُسن کو اپنے طور پر پہچان لیتی ہے مگر اس شناخت میں بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ